غزہ میں اسرائیلی فضائی حملہ، حماس رہنما رائد سعد کی شہادت کا دعویٰ

حملے میں کم از کم 5 افراد شہید
اسرائیلی فوج نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مغربی غزہ شہر میں ایک گاڑی کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا۔ عرب میڈیا کے مطابق اس حملے میں کم از کم 5 افراد شہید اور 25 سے زائد زخمی ہوئے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے کہا ہے کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے حماس کے سینیئر رہنما رائد سعد کو نشانہ بنانے کے احکامات دیے تھے۔
بعد ازاں اسرائیلی فوج نے بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی انٹیلی جنس ایجنسی شن بیٹ کے تعاون سے کی گئی اور اس میں رائد سعد شہید ہو گئے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق حالیہ ہفتوں میں حماس اپنی عسکری صلاحیتیں بحال کرنے اور تنظیم نو کی کوشش کر رہی تھی، اسی لیے رائد سعد کو ہدف بنایا گیا۔
فوجی بیان میں مزید کہا گیا کہ رائد سعد غزہ پٹی میں موجود حماس کے آخری سینیئر رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ وہ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے شہید نائب سربراہ مروان عیسیٰ کے قریبی ساتھی تھے اور تنظیم میں مختلف اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔
حماس نے اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے، تاہم انہوں نے اپنے کسی رہنما کی شہادت کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔
یورپی کونسل آن فارن ریلیشنز کی ایک فیکٹ شیٹ کے مطابق رائد سعد القسام بریگیڈز کی ملٹری کونسل کے رکن تھے۔ وہ تنظیم کے آپریشنز اور پروڈکشن ڈیپارٹمنٹس کے سربراہ بھی رہے اور انہیں عسکری ونگ کا سیکنڈ ان کمانڈ سمجھا جاتا تھا۔
یہ تازہ حملہ نہ صرف غزہ میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہا ہے بلکہ جنگ بندی معاہدے کی ساکھ پر بھی سوالات کھڑے کر رہا ہے۔
