انٹرنیشنل
اسرائیل نے بیروت پر حملہ کردیا، ایک اور جنگ کا آغاز؟
EditorStaff Reporter
Nov 24, 2025 · 6:52 PM

’اسرائیل نے حد پار کردی‘
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ اسرائیل نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں حزب اللہ کے اعلیٰ فوجی کمانڈر سمیت پانچ افراد شہید اور کم از کم 28 زخمی ہوئے۔
اس حملے نے نہ صرف لبنان بلکہ پورے خطے میں سیاسی و عسکری ہلچل پیدا کر دی ہے۔ حزب اللہ نے اپنے کمانڈر کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے "سرخ لکیر عبور کر لی ہے" اور تنظیم اس حملے کے جواب پر غور کر رہی ہے۔
لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی فضائی حملہ بیروت کے جنوبی علاقے میں ایک رہائشی عمارت پر کیا گیا۔ حملے کے وقت عمارت میں عام شہری بھی موجود تھے، جس کے باعث ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ زخمیوں کو بیروت کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے، جہاں کئی افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق حملہ اچانک ہوا اور عمارت کے کئی حصے زمین بوس ہو گئے۔ ریسکیو ٹیموں نے رات بھر ملبہ ہٹانے اور زخمیوں کو نکالنے کا کام جاری رکھا۔
اسرائیل نے ریڈ لائین عبور کرلی: حزب اللہ
حزب اللہ کے اعلیٰ عہدیدار نے میڈیا کو بتایا کہ اسرائیل نے اس حملے کے ذریعے ایک خطرناک حد پار کر دی ہے۔ ان کے مطابق یہ حملہ نہ صرف حزب اللہ بلکہ پورے لبنان کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ تنظیم نے کہا ہے کہ وہ اس حملے کے جواب پر غور کر رہی ہے اور جلد ہی اپنا لائحہ عمل واضح کرے گی۔
حزب اللہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ شہید کمانڈر تنظیم کے عسکری ڈھانچے میں انتہائی اہم مقام رکھتے تھے اور ان کی شہادت ایک بڑا نقصان ہے۔ تاہم، انہوں نے زور دیا کہ "مزاحمت کمزور نہیں ہوگی بلکہ مزید مضبوط ہوگی۔"
اسرائیل کو کھلی چھوٹ، ایران برہم
ایران نے حزب اللہ کے ملٹری چیف کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اسرائیلی حملہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ ان کے مطابق جنگ بندی کے ضامن ممالک اس صورتحال کے براہِ راست ذمہ دار ہیں کیونکہ انہوں نے اسرائیل کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اسرائیل کی "منظم دہشت گردی" کو روکنے کے لیے عالمی برادری کو سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔ ایران نے واضح کیا کہ حزب اللہ کے ساتھ اس کا تعاون جاری رہے گا اور مزاحمتی تحریک کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
اسرائیل نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی
اسرائیلی فوج نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ نشانہ حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے کو کمزور کرنا تھا۔ اسرائیل کے مطابق حزب اللہ حالیہ دنوں میں سرحدی علاقوں میں سرگرم تھی اور اسرائیلی شہریوں کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔
اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ "دفاعی اقدام" تھا اور اس کا مقصد لبنان میں حزب اللہ کی عسکری صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔ تاہم، بین الاقوامی مبصرین اس دعوے کو متنازع قرار دے رہے ہیں کیونکہ حملہ ایک رہائشی عمارت پر کیا گیا جس میں عام شہری بھی موجود تھے۔
لبنانی عوام میں غم و غصہ
لبنان میں عوامی سطح پر شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ بیروت کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جن میں اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے گئے اور عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا گیا۔
لبنانی حکومت نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ حکومت نے اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل کو اس طرح کے حملوں سے باز رکھیں۔
عالمی ردعمل
عالمی سطح پر اس حملے نے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ مختلف ممالک نے اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئی جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
یورپی یونین نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی حملے پر افسوس کا اظہار کیا اور دونوں فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔
لبنان پر اسرائیلی حملے کے ممکنہ اثرات
ماہرین کے مطابق یہ حملہ خطے میں طاقت کے توازن کو مزید بگاڑ سکتا ہے۔ حزب اللہ کی قیادت پر براہِ راست حملہ اسرائیل کی جانب سے ایک جارحانہ پیغام ہے، جس کا مقصد تنظیم کو کمزور کرنا ہے۔ تاہم، اس کے نتیجے میں حزب اللہ مزید سخت ردعمل دے سکتی ہے، جس سے سرحدی جھڑپیں بڑھنے کا امکان ہے۔
ایران کی کھلی حمایت اور حزب اللہ کی مزاحمتی پالیسی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ تنازع صرف لبنان اور اسرائیل تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ شام، عراق اور دیگر ممالک میں موجود مزاحمتی گروہ بھی اس صورتحال میں سرگرم ہو سکتے ہیں۔
ریمارک نیوز کی اپ ڈیٹس واٹس ایپ پر حاصل کریںچینل فالو کرنے کے لیے کلک کریں
ADVERTISEMENT
