"ایڈولف ہٹلر" انتخابات میں کامیاب

اب اپنا نام بدلنے کا اعلان
نامیبیا میں ایک سیاستدان جس کا نام ایڈولف ہٹلر ہے، مسلسل پانچویں بار اپنے حلقے سے انتخابی کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، اور اب انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنا نام بدل رہے ہیں۔
59 سالہ ایڈولف ہٹلر، جو ساؤتھ ویسٹ افریقہ پیپلز آرگنائزیشن (سواپو) کے رکن ہیں، 2004 سے اومپنڈجا حلقے کی نمائندگی کر رہے ہیں اور بدھ کے روز ہونے والے مقامی انتخابات میں دوبارہ کامیاب ہوئے۔
ایک معتبر اینٹی اپارتھائیڈ کارکن کے طور پر انہیں اپنے نام کی وجہ سے برسوں سے وضاحتیں دینی پڑتی رہی ہیں، اور وہ بار بار یہ بتاتے رہے ہیں کہ ان کا مشہور نازی لیڈر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
مقامی اخبار دی نامیبیئن کے مطابق، انہوں نے اب اپنے شناختی کاغذات سے درمیانی نام 'ہٹلر' حذف کر دیا ہے، اور اب وہ صرف ایڈولف اونونا کہلائیں گے۔ انتخابات سے کچھ قبل انہوں نے کہا کہ وہ مستقبل میں صرف ایڈولف اونونا کے نام سے جانے جائیں، کیونکہ "ایڈولف ہٹلر" کہلانے سے غیر ضروری منفی تاثر پیدا ہوتا ہے، حالانکہ وہ پہلے بھی بلا مشکل انتخابات جیت چکے ہیں۔
انہوں نے کہا:
"میرا نام ایڈولف ہٹلر نہیں۔ میں ایڈولف اونونا ہوں۔ ماضی میں لوگ مجھے ایڈولف ہٹلر کہہ کر کسی ایسے شخص سے جوڑنے کی کوشش کرتے رہے جسے میں جانتا بھی نہیں۔"
2020 کے انتخابات کے بعد انہوں نے جرمن اخبار بیلڈ کو بتایا کہ ان کا نازی نظریات یا تاریخ سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے مطابق، ان کے والد شاید یہ نہیں جانتے تھے کہ ایڈولف ہٹلر کون تھا۔
نامیبیا میں جرمن نام رکھنا غیر معمولی بات نہیں، کیونکہ یہ ملک 1884 سے 1915 تک جرمن کالونی رہا۔ ایڈولف اونونا نے کہا:
"بچپن میں مجھے یہ نام بالکل معمولی لگا۔ بعد میں بڑا ہوا تو سمجھا کہ یہ شخص دنیا پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ میرا اس سب سے کوئی تعلق نہیں۔"
