انٹرنیشنل
روس کے ساتھ جنگ ختم کرنے کی کوششیں تیز
Staff ReporterStaff Reporter
Nov 24, 2025 · 7:52 PM

امریکا اور یوکرین کا امن منصوبہ: جنیوا مذاکرات کے بعد "ریفائنڈ فریم ورک" تیار
امریکا اور یوکرین نے جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ بیان میں اعلان کیا ہے کہ دونوں ممالک نے روس کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک "ریفائنڈ پیس فریم ورک" تیار کیا ہے۔ اگرچہ منصوبے کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، لیکن اس پیشرفت کو یوکرین کے کچھ اتحادیوں نے محتاط انداز میں خوش آئند قرار دیا ہے۔ یہ مذاکرات اس وقت ہوئے جب ابتدائی امریکی تجویز کو یوکرین اور یورپی اتحادیوں نے "کریملن کی خواہشات کی فہرست" قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔
پس منظر
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ نے نہ صرف مشرقی یورپ بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ 2022 میں شروع ہونے والی اس جنگ نے لاکھوں افراد کو بے گھر کیا، ہزاروں جانیں لیں اور توانائی و خوراک کے عالمی بحران کو جنم دیا۔ مغربی ممالک، خصوصاً امریکا اور یورپی یونین، یوکرین کی حمایت میں کھڑے ہیں جبکہ روس اپنی عسکری حکمتِ عملی پر قائم ہے۔
جنیوا مذاکرات
اتوار کو جنیوا میں امریکا اور یوکرین کے اعلیٰ حکام کے درمیان اہم مذاکرات ہوئے۔ ان مذاکرات کا مقصد ایک ایسا امن منصوبہ تیار کرنا تھا جو یوکرین کے لیے قابلِ قبول ہو اور روس کو بھی مذاکرات کی میز پر لانے میں مددگار ثابت ہو۔
امریکا نے ابتدائی طور پر ایک تجویز پیش کی تھی، لیکن یوکرین اور اس کے یورپی اتحادیوں نے اسے "کریملن کی خواہشات کی فہرست" قرار دیا۔ ان کے مطابق اس تجویز میں روسی مفادات کو زیادہ اہمیت دی گئی تھی اور یوکرین کی خودمختاری کو نظرانداز کیا گیا تھا۔
"ریفائنڈ فریم ورک"
مذاکرات کے بعد واشنگٹن اور کییف نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ دونوں ممالک نے ایک "ریفائنڈ پیس فریم ورک" تیار کیا ہے۔ اگرچہ اس فریم ورک کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں، لیکن اس کا مقصد جنگ کے خاتمے کے لیے ایک متوازن راستہ تلاش کرنا ہے۔
یوکرین کے حکام نے کہا کہ یہ فریم ورک ان کے بنیادی خدشات کو مدنظر رکھتا ہے، خصوصاً علاقائی خودمختاری، سلامتی کی ضمانتیں، اور روسی افواج کی واپسی۔
اتحادیوں کا ردعمل
یوکرین کے یورپی اتحادیوں نے اس پیشرفت کا محتاط خیرمقدم کیا ہے۔ جرمنی اور فرانس نے کہا کہ کسی بھی امن منصوبے کو یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنا ہوگا۔ برطانیہ نے بھی اس بات پر زور دیا کہ روس کو جنگ بندی کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
تاہم، کچھ اتحادیوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر امن منصوبہ روسی شرائط کے قریب ہوا تو یہ یوکرین کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
امریکا کا موقف
امریکی حکام نے کہا کہ ان کا مقصد ایک ایسا فریم ورک تیار کرنا ہے جو یوکرین کے لیے قابلِ قبول ہو اور روس کو بھی مذاکرات کی طرف راغب کرے۔ امریکا نے زور دیا کہ جنگ کا خاتمہ صرف مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے، لیکن اس کے لیے یوکرین کی سلامتی کو اولین ترجیح دی جائے گی۔
یوکرین کا موقف
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ کسی بھی امن منصوبے میں روسی افواج کی واپسی اور یوکرین کی علاقائی سالمیت کی ضمانت لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کسی ایسے منصوبے کو قبول نہیں کرے گا جو روسی قبضے کو قانونی حیثیت دے۔
روس کا ردعمل
روس نے اس پیشرفت پر فوری ردعمل نہیں دیا، لیکن کریملن کے قریبی ذرائع نے کہا کہ ماسکو کسی بھی امن منصوبے کو اس وقت تک سنجیدگی سے نہیں لے گا جب تک اس میں روسی سلامتی کے خدشات کو شامل نہ کیا جائے۔ روس کا مؤقف ہے کہ نیٹو کی توسیع اور یوکرین کی مغربی حمایت اس کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔
عالمی اثرات
یہ مذاکرات عالمی سطح پر بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ امریکا اور یوکرین کے درمیان "ریفائنڈ فریم ورک" کی تیاری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مغربی ممالک جنگ کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ تاہم، اس منصوبے کی کامیابی روس کے ردعمل اور اس کے عملی اقدامات پر منحصر ہوگی۔
توانائی کی قیمتوں، خوراک کے بحران اور عالمی معیشت پر اس جنگ کے اثرات نے دنیا بھر کے ممالک کو مجبور کیا ہے کہ وہ امن کے لیے کوششیں تیز کریں۔
تجزیہ
ماہرین کے مطابق یہ پیشرفت ایک مثبت قدم ہے، لیکن اس کے عملی نتائج دیکھنا باقی ہیں۔ یوکرین کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو برقرار رکھتے ہوئے امن قائم کرے۔ دوسری طرف، روس اپنی سلامتی کے خدشات کو نظرانداز نہیں کرے گا۔
اگر یہ "ریفائنڈ فریم ورک" دونوں فریقوں کے لیے قابلِ قبول ثابت ہوا تو یہ جنگ کے خاتمے کی طرف ایک بڑا قدم ہوگا۔ لیکن اگر روس نے اسے مسترد کیا تو جنگ مزید طول پکڑ سکتی ہے۔
نتیجہ
امریکا اور یوکرین کے درمیان جنیوا مذاکرات اور "ریفائنڈ پیس فریم ورک" کی تیاری اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہیں۔ تاہم، اس منصوبے کی کامیابی روس کے ردعمل اور عالمی برادری کی حمایت پر منحصر ہے۔
یہ پیشرفت یوکرین کے اتحادیوں کے لیے امید کی کرن ہے، لیکن ساتھ ہی ایک بڑا امتحان بھی ہے کہ آیا وہ یوکرین کی خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے روس کو مذاکرات کی میز پر لا سکتے ہیں یا نہیں۔
ریمارک نیوز کی اپ ڈیٹس واٹس ایپ پر حاصل کریںچینل فالو کرنے کے لیے کلک کریں
ADVERTISEMENT
