ایبٹ آباد: اپنی دوست سے لاکھوں کے زیورات واپس لینے گئی ’ڈاکٹر وردہ‘ قتل؟ اغوا کے بعد لاش برآمد

ڈاکٹر کی دوست اور ڈرائیور گرفتار
ایبٹ آباد: ڈی ایچ کیو اسپتال سے مبینہ طور پر اغواء ہونے والی ڈاکٹر وردہ مشتاق کی لاش لڑی بنوٹا کے مقام سے برآمد ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
ڈاکٹر وردہ مشتاق ایبٹ آباد کے ڈی ایچ کیو اسپتال میں تعینات تھیں اور وہ 4 دسمبر کو اپنی دوست کے ساتھ گاڑی میں اسپتال سے نکلی تھیں۔ واقعے کے بعد ڈاکٹر کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
پولیس نے خاتون ڈاکٹر کو اغواء کرنے کے الزام میں دو افراد کو حراست میں لیا تھا جن میں ڈاکٹر وردہ کی دوست اور اُس کا ڈرائیور شامل ہیں۔
تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ ڈاکٹر وردہ نے 67 تولہ سونا اپنی دوست کے پاس امانت کے طور پر رکھوایا تھا۔
ڈاکٹر وردہ نے اپنی دوست مسمہ پر الزام لگایا تھا کہ وہ 67 تولہ سونے کے زیورات واپس کرنے میں تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے، جو ڈاکٹر وردہ نے 2023 میں دبئی کام کے سلسلے میں روانگی سے پہلے اس کے حوالے کیے تھے۔
اس حوالے سے ایک باضابطہ دستاویز بھی موجود ہے جو زیورات کی حوالگی کی تصدیق کرتی ہے۔ 4 دسمبر کی شام ڈاکٹر وردہ اپنی ایمرجنسی ڈیوٹی کے دوران اپنی دوست کے ساتھ زیورات واپس لینے گئی تھیں، مگر وہ واپس نہ لوٹیں۔
ڈاکٹر وردہ کے والد کی شکایت پر پولیس نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 365 کے تحت اغوا کا مقدمہ درج کیا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر وردہ اسپتال سے ایک معروف ایبٹ آباد کے بزنس مین کی بیوی کے ساتھ نکلی تھیں اور وہ دونوں جاڈون پلازہ، منڈیاں (تھانہ میرپور کی حدود) گئے، جس کے بعد ان سے تمام رابطے منقطع ہو گئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات ہر پہلو سے جاری ہیں اور مزید حقائق سامنے آنے پر میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔
