نیویارک ٹائمز نے پینٹاگون کے خلاف کیس دائر کر دیا

نئی پالیسی کونسی؟
صحافت پر قدغن،نیویارک ٹائمز نے پینٹاگون کے خلاف عدالت میں کیس دائر کردیا
نیویارک: امریکہ کے مشہور اخبار The New York Times نے پینٹاگون کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ اس مقدمے کی بنیاد پینٹاگون کی وہ نئی پالیسی ہے جس کے تحت صحافیوں کو فوجی امور سے متعلق رپورٹنگ کرنے سے پہلے دفاعی حکام کی منظوری لینا لازمی قرار دی گئی ہے۔
نیویارک ٹائمز نے عدالت میں موقف اختیار کیا ہے کہ یہ نیا اصول صحافیوں کی آزاد رپورٹنگ اور معلومات تک رسائی کو غیر قانونی طور پر محدود کرتا ہے۔ پالیسی کے تحت صحافی اپنے ذرائع سے حاصل کردہ غیر سرکاری معلومات کو شائع کرنے سے پہلے دفاعی حکام سے اجازت لینے پر مجبور ہوں گے، جس سے صحافتی آزادی پر برا اثر پڑے گا۔
اس نئی پالیسی کے خلاف The Associated Press، CNN، The Washington Post اور دیگر بڑے میڈیا اداروں نے بھی احتجاج کیا۔ بعض اداروں نے اپنے پینٹاگون صحافتی پاس واپس کر دیے، جبکہ دیگر نے قانونی اور انتظامی کارروائی کے امکانات پر غور شروع کیا۔
نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ پالیسی کے نفاذ سے عوام کو اہم دفاعی معاملات کی شفاف رپورٹنگ تک رسائی محدود ہو سکتی ہے۔ اسی لیے اخبار نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ پینٹاگون کو صحافیوں پر اس پابندی سے روکا جائے۔
ماہرین کے مطابق، اگر عدالت نے نیویارک ٹائمز کا مقدمہ تسلیم کر لیا، تو یہ فیصلہ پریس کی آزادی کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف، پینٹاگون کا مؤقف ہے کہ نئے ضوابط قومی سلامتی اور حساس معلومات کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں۔
