پاکستانی کبڈی کھلاڑی کو بھارت کی جانب سے کھیلنے اور بھارتی جھنڈا لہرانے کی سزا

عبیداللہ راجپوت کو پابندی کا سامنا
پاکستان کبڈی فیڈریشن نے بھارت کی جانب سے کھیلنے اور بھارتی جھنڈا لہرانے پر پاکستانی کبڈی کھلاڑی عبیداللہ راجپوت پر پابندی لگا دی۔
لاہور میں فیڈریشن کی جنرل کونسل کا اجلاس چیئرمین چوہدری شافع حسین کی صدارت میں ہوا، جس میں عبیداللہ پر پابندی کی منظوری دی گئی۔ چیئرمین نے واضح کیا کہ کھلاڑی کو پابندی کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہوگا اور اس کا کیس ڈسپلنری کمیٹی کے سپرد کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی کھلاڑی کو بیرونِ ملک کھیلنے کے لیے فیڈریشن سے این او سی لینا ضروری ہے، بغیر اجازت کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
فیڈریشن کے سیکرٹری رانا سرور نے بتایا کہ بحرین کے اس ایونٹ میں پاکستان کے 16 کھلاڑی شریک ہوئے تھے، لیکن یہ قومی ٹیم نہیں تھی بلکہ ایک خود ساختہ ٹیم تھی جس نے پاکستان کا نام استعمال کیا۔ نہ حکومت سے اجازت لی گئی اور نہ ہی فیڈریشن کو اطلاع دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ قومی کھلاڑی کا بھارتی ٹیم کے لیے کھیلنا اور جھنڈا لہرانا ناقابلِ برداشت ہے۔ ایسے پروموٹرز کے خلاف بھی کارروائی ہوگی جو پاکستان کا نام استعمال کر کے غیر قانونی ٹیمیں بناتے ہیں۔
دوسری جانب عبیداللہ راجپوت نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹورنامنٹ ہر سال بحرین میں ہوتا ہے اور وہ پہلے بھی اس میں کھیل چکے ہیں۔ اس بار جس ٹیم سے وہ کھیلتے تھے، انہوں نے انہیں نہیں بلایا، لہٰذا وہ دوسری ٹیم کے ساتھ شامل ہو گئے۔
ان کے مطابق انہیں معلوم نہیں تھا کہ ٹیموں کو "انڈیا" اور "پاکستان" کے نام دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ میدان میں داخل ہوئے تو دوستوں نے بتایا کہ وہ بھارت کی طرف سے کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کمنٹیٹر سے بھی کہا کہ اعلان کرے کہ یہ انڈیا-پاکستان کا میچ نہیں بلکہ ایک لوکل کپ ہے۔
عبیداللہ نے مزید کہا کہ وہاں جا کر انڈیا-پاکستان کے نعرے لگنے لگے اور جھنڈے لہرائے گئے، لیکن ان کے ذہن میں ایسا کچھ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک کپ تھا، ورلڈکپ نہیں، اگر ورلڈکپ ہوتا تو وہ لازمی پاکستان کی نمائندگی کرتے۔ انہوں نے اپنی فیڈریشن، استاد اور چاہنے والوں سے معافی مانگی اور کہا کہ اگر ان کی وجہ سے کسی کو دکھ پہنچا ہے تو وہ شرمندہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانی ہیں اور پاکستان پر جان بھی قربان ہے، اس معاملے کو صرف ایک کپ کی حد تک ہی دیکھا جائے۔
