عثمان ہادی کے قتل کے بعد بنگلادیش دوبارہ پرتشدد مظاہروں کی زد میں، عثمان ہادی کون تھے؟

ڈھاکا: بنگلا دیش میں نوجوان انقلابی رہنما شریف عثمان ہادی کے قتل کے بعد ملک بھر میں بھارت مخالف شدید احتجاج اور پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا.

کیا آپ جانتے ہیں عثمان ہادی کون تھے؟
شریف عثمان ہادی بنگلہ دیش کے نوجوان سیاسی رہنماؤں میں سے ایک تھے جنہوں نے گزشتہ سال ملک میں ہونے والی طلبہ کی قیادت میں احتجاجی تحریک کو لیڈ کیا اور بعد میں وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کو فروغ دیا اور حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔
جنوبی گاؤں نالچیتی سے تعلق رکھنے والے ہادی ایک مسلم خاندان سے تھے اور وہ انقلاب منچ کے ترجمان تھے، جو خود کو "احتجاج کی روح سے متاثر ایک انقلابی ثقافتی پلیٹ فارم" قرار دیتا تھا۔
شریف عثمان ہادی نہ صرف سڑکوں پر احتجاج کی قیادت کر رہے تھے بلکہ وہ آنے والے پارلیمانی انتخابات میں آزاد امیدوار کے طور پر حصہ لینے کی تیاری بھی کر رہے تھے۔
ہادی قومی خودمختاری کے حق میں تھے اور پڑوسی ملک بھارت کے اثر و رسوخ پر کھل کر تنقید کرتے تھے، اس کے علاوہ ہادی کا مطالبہ تھا کہ وزیر اعظم حسینہ کی سیاسی جماعت، عوامی لیگ کو آئینی طور پر ممنوع قرار دیا جائے۔
عثمان ہادی کے قتل کے بعد بنگلہ دیش میں شدید سیاسی کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ مظاہرین نے ڈھاکا، چٹاگانگ، راجشاہی، ہلاکٹی جمال پور اور بارسال میں سڑکیں بند کیں، احتجاجی ریلیاں نکالیں اور نعرے بازی کی۔ بعض مقامات پر مشتعل افراد نے آگ لگائی، دفاتر میں توڑ پھوڑ کی گئی، اس دوران مشتعل افراد اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
چٹاگانگ میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر احتجاج کرکے مشتعل افراد نے بھارت مخالف نعرے بازی کرکے پتھراؤ بھی کیا، راجشاہی میں شیخ مجیب الرحمٰن کی رہائش گاہ اور سیاسی دفاتر پر حملے بھی شامل ہیں۔
شریف عثمان ہادی کے حامیوں نے ان کی تحریک کو آگے بڑھانے کا عہد کیا ہے اور ملک میں نوجوان قیادت کی طاقت اور طلبہ کی سیاست میں شرکت دوبارہ موضوع بحث بن گئی ہے۔
