نیشنل
اب سندھ میں برتھ، ڈیتھ، شادی و طلاق کی رجسٹریشن آن لائن ہوگی، ایپ لانچ
EditorStaff Reporter
Nov 28, 2025

کاغذی کارروائی اور طویل انتظار ختم
کراچی: سندھ نے ڈیجیٹل گورننس کی جانب ایک اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے سول رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹم CRMS موبائل ایپلانچ کردی، جس کے ذریعے پیدائش، موت، شادی اور طلاق کی رجسٹریشن کی خدمات اب شہریوں کے گھر کی دہلیز پر فراہم ہوں گی۔ مربوط، بے کاغذ اور مکمل ٹیکنالوجی پر مبنی یہ نظام صوبے میں شہری سہولت کا نیا باب کھول رہا ہے۔
وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ایپ وسیع تر الیکٹرانک سول رجسٹریشن اینڈ وائیٹل اسٹیٹِسٹکس E-CRVS سسٹم کا حصہ ہے، جسے 471.254 ملین روپے کے بجٹ سے منظور کیا گیا ہے۔ یہ نظام 30 اضلاع اور 769 صحت مراکز تک پھیلا ہوگا، جہاں سرکاری و نجی اسپتالوں میں 85 فیصد پیدائشوں کی فوری اور ڈیجیٹل رجسٹریشن ممکن بنائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکہ کاری، امراض کی نگرانی اور مریض کی شناخت کے نظام کو بھی CRMS سے جوڑا جا رہا ہے، جس سے صحت کے شعبے میں ایک مضبوط، مربوط اور ڈیٹا پر مبنی ڈھانچہ قائم ہوگا۔ انہوں نے اسے "ڈیجیٹل سندھ کے سفر میں ایک اہم سنگ میل" قرار دیا۔
افتتاح کے دوران وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سندھ کابینہ کے تمام امور پہلے ہی ڈیجیٹلائز ہو چکے ہیں، تاہم پیدائش و اموات کی رجسٹریشن کا نظام کمزور تھا، جس کی بڑی وجہ کم آمدنی والے خاندانوں کا NADRA کی فیس ادا نہ کر پانا تھا۔ اس رکاوٹ کو ختم کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ پیدائش اور موت کی رجسٹریشن پر تمام نادرا فیس صوبائی حکومت ادا کرے گی۔
CRMS موبائل ایپ نادرا کے تعاون سے تیار کی گئی ہے، جس کا مقصد قطاروں، کاغذی کارروائی اور طویل انتظار کا خاتمہ ہے۔ یہ ایپ بالخصوص دور دراز علاقوں کے شہریوں کے لیے رجسٹریشن کو آسان بنائے گی اور صوبائی ڈیٹا بیس سے منسلک مستند ریکارڈ فراہم کرے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ درست اور بروقت رجسٹریشن کی بدولت “اب صوبہ ریئل ٹائم مردم شماری ڈیٹا حاصل کر سکے گا”، جس سے شواہد کی بنیاد پر بہتر منصوبہ بندی ممکن ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ آن لائن ایڈریس چینج جیسے اقدامات بھی اب ضروری ہیں۔
مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ پیدائش کے فوراً بعد بچوں کی رجسٹریشن پورے سندھ میں لازمی قرار دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سال بعد ہر بچے کی اسکول پلاننگ اسی ڈیٹا پر ہوگی۔ ہسپتالوں کو ہدایت کی گئی کہ ہر نوزائیدہ کی پیدائش فوری رجسٹر کی جائے، جب کہ یونین کونسل سطح پر عملدرآمد کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ UC نمائندگان کی کارکردگی رجسٹریشن کی شرح کی بنیاد پر جانچی جائے گی۔
نئے نظام سے صحت کے منصوبوں، خصوصاً الیکٹرانک امیونائزیشن رجسٹری اور تھیلیسیمیا جیسے امراض کے لیے ہدفی اقدامات کو بھی مضبوطی ملے گی۔
ریمارک نیوز کی اپ ڈیٹس واٹس ایپ پر حاصل کریںچینل فالو کرنے کے لیے کلک کریں
