درختوں کے نچلے حصے پر سفید پینٹ کیوں کیا جاتا ہے؟

مختلف ممالک میں مختلف رنگوں کا استعمال کیوں؟
اکثر آپ نے سڑکوں کے کنارے یا گلی محلوں میں ایسے درخت دیکھے ہوں گے جن کے نچلے حصے کو سفید رنگ سے پینٹ کیا گیا ہوتا ہے۔ یہ منظر عام ہے لیکن اکثر لوگ سوچتے ہیں کہ آخر اس عمل کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟
کیا یہ صرف خوبصورتی کے لیے کیا جاتا ہے یا اس کے پیچھے کوئی سائنسی وجہ بھی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ درختوں پر سفید پینٹ کرنے کے کئی عملی اور سائنسی فوائد ہیں، جو نہ صرف درخت کی صحت کے لیے اہم ہیں بلکہ انسانوں کے لیے بھی سہولت پیدا کرتے ہیں۔
چونے کا استعمال اور اس کے اثرات
درختوں کو رنگنے کے لیے عام طور پر چونے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جب چونا درخت کے نچلے حصے پر لگایا جاتا ہے تو یہ اس کی چھال کو مضبوط بناتا ہے اور اسے ٹوٹنے یا پھٹنے سے بچاتا ہے۔ چھال درخت کے لیے حفاظتی ڈھال کا کام کرتی ہے، اور اگر یہ کمزور ہو جائے تو درخت بیماریوں اور کیڑوں کا شکار ہو سکتا ہے۔
چونے کی تہہ درخت کو دیمک اور دیگر نقصان دہ کیڑوں سے محفوظ رکھتی ہے، جس سے اس کی عمر میں اضافہ ہوتا ہے۔
سورج کی شعاعوں سے تحفظ
کارنیل یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق سفید رنگ درختوں کو سورج کی تیز شعاعوں سے بھی بچاتا ہے۔ خاص طور پر گرمیوں میں سورج کی روشنی درخت کی جڑوں اور نچلے حصے کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ سفید رنگ سورج کی روشنی کو منعکس کر دیتا ہے، جس سے درخت کی جڑیں محفوظ رہتی ہیں اور اس کی نشوونما بہتر ہوتی ہے۔
سڑکوں پر نشاندہی کا کام
کچھ ممالک میں سفید پینٹ کا استعمال صرف درختوں کی حفاظت کے لیے نہیں بلکہ سڑکوں پر نشاندہی کے طور پر بھی کیا جاتا ہے۔ جہاں اسٹریٹ لائٹس موجود نہیں ہوتیں، وہاں گاڑیوں کی ہیڈلائٹس جب درختوں پر پڑتی ہیں تو سفید رنگ انہیں نمایاں کر دیتا ہے۔
اس طرح ڈرائیور کو سڑک کے کنارے موجود درختوں کی واضح نشاندہی ہو جاتی ہے اور حادثات سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔

مختلف ممالک میں مختلف رنگوں کا استعمال
دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں درختوں پر مختلف رنگوں کا استعمال کیا جاتا ہے اور ہر رنگ کا اپنا مطلب ہوتا ہے۔
امریکا میں نارنجی رنگ زیادہ استعمال ہوتا ہے، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ درخت کو اگانے یا محفوظ رکھنے کا ارادہ ہے۔ نیلا رنگ اس بات کی علامت ہے کہ درخت کو کاٹا جا سکتا ہے۔

برطانیہ میں درختوں پر مختلف رنگوں سے رومن ہندسے لکھے جاتے ہیں تاکہ ان کی لمبائی اور پیمائش کا اندازہ لگایا جا سکے۔
