میر صادق اور میر جعفر کون تھے؟ غداری کی داستانیں

ملامتی علامت بن گئے
غیر منقسم ہندوستان میں مسلمانوں کے دو تاریخی کرداروں یا دو میروں نے اپنی قومی تاریخ بدل کر رکھ دی۔ اسی لئے 1971ء میں پاکستان کو توڑنے والے کرداروں کو بھی میر صادق و جعفر سے تشبیہ دی جاتی ہے کیونکہ انہوں نے پاکستان کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا۔
عمران خان بھی اقتدار چھن جانے کے بعد اکثر اپنے مخالفین کو میر جعفر اور میر صادق کہہ کر انہیں غدار ہونے کے طعنے دیتے تھے۔
لیکن کیا آپ تاریخ میں بدنام ہونے والے دونوں کرداروں کے بارے میں جانتے ہیں کہ آخر وہ غدار کیوں کہلائے؟ آئیے ہم آپ کو تاریخ کے جھروکوں میں لیے چلتے ہیں۔
میر جعفر کون تھا؟ غدار کیسے بنا؟
1592ء میں اکبر بادشاہ کے دور حکومت میں بنگال کو مغلیہ سلطنت کا حصہ بنایا گیا تھا۔ مغلیہ سلطنت کمزور ہوئی تو کئی صوبے آزاد ہو گئے جن میں بنگال بھی شامل تھا۔ سراج الدولہ چوبیس برس کی عمر میں اپنے دادا علی وردی خان کے انتقال کے بعد 1756ء میں بنگال کی گدی پر بیٹھا۔ اس دور میں انگریز اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہے تھے اور تجارت کی آڑ میں ایسٹ انڈیا کمپنی مسلمانوں کے اقتدار میں نقب لگانے میں مصروف تھی۔
اول تو انگریزوں نے نواب کی منظوری کے بغیر اپنے تجارتی مراکز کے اردگرد حصار بنا لئے تھے ، دوم وہ سراج الدولہ کے مخالفوں کی حمایت کر رہے تھے اور سوم انہوں نے تجارتی مراعات سے ناجائز فائدے اٹھانا شروع کر دیئے تھے جن کے سبب نواب نے حملہ کر کے کلکتہ پر قبضہ کیا۔ کلائیو نے حملہ کر کے کلکتہ تو واپس لے لیا اور نواب سراج الدولہ سے معاہدہ بھی کر لیا لیکن اس کے ساتھ ہی انگریزوں نے سراج الدولہ سے نجات حاصل کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا۔ اس قسم کے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے انگریز ہمیشہ سازش کا سہارا لیتے تھے اور دشمن کے اہم کارندوں کو رشوت یا اقتدار کا لالچ دے کر خرید لیتے تھے۔
نواب سراج الدولہ کا سب سے بڑا قابل اعتماد میرجعفر تھا جو اس کی فوج کا کمانڈر انچیف بھی تھا۔ انگریزوں نے اس سے ساز باز کر کے سازش کا جال پھیلا دیا اور اسے بنگال کی حکمرانی دینے کا وعدہ کر کے خفیہ معاہدہ کر لیا۔ طے شدہ حکمت عملی کے تحت جنگ پلاسی (1757) ہوئی۔ انگریزوں کی فوج تین ہزار پر مشتمل تھی جبکہ سراج الدولہ کے پاس پچاس ہزار کی فوج تھی۔ 23 جون 1757ء کو پلاسی کی اس جنگ کے دوران میر جعفر نے سراج الدولہ کو دغا دیا اور فوج لے کر نواب سے علیحدہ ہو گیا۔ نتیجے کے طور پر نواب سراج الدولہ کو شکست ہوئی اور وہ جان بچا کر بھاگ نکلا۔
میر جعفر کے بیٹے میراں نے تعاقب کر کے سراج الدولہ کو قتل کر دیا۔ یوں سراج الدولہ کی جگہ میر جعفر بنگال کا حاکم بن گیا لیکن عملی طور پر اسے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ معاہدے میں بری طرح جکڑ دیا گیا اور انگریز غالب آ چکے تھے۔
جنگ پلاسی کے بعد عملاً بنگال کے علاقے میں مسلمانوں کے عروج و اقتدار کا سورج غروب ہو گیا۔
میر صادق کون تھا؟ کس نے کس سے غداری کی؟
دوسرا تاریخی کردار جو ایک ملامتی علامت بن چکا ہے وہ ہے میر صادق جو ٹیپو سلطان کی مجلس کا صدرِ اعظم تھا۔ آپ جانتے ہیں کہ ٹیپو سلطان نہ ہی صرف بہادر، عبادت گزار اور اعلیٰ درجے کا منتظم تھا بلکہ ہندوستان میں مسلمانوں کے اقتدار کی آخری نشانی اور روشن چراغ سمجھا جاتا تھا کیونکہ مغل حکمران جنگ بلکسر میں شکست کے بعد انگریزوں کے ہاتھوں میں محض کٹھ پتلی بن چکے تھے۔
ٹیپو کو فرانسیسیوں کی حمایت حاصل تھی اور وہ انگریزوں کے توسیع پسندانہ عزائم کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا۔ مکمل جنگی تیاریوں اور سازشوں کا جال پھیلانے کے بعد انگریزوں نے جنرل ہیرس کی سربراہی میں میسور پر حملہ کر دیا۔
جنرل ہیرس نے مارچ 1799ء میں میسور اور پھر بنگلور پر قبضہ کر لیا۔ اس کی فوج میں ساٹھ ہزار بیل اور بہت سے ہاتھی تھے۔ ٹیپو سلطان کو صلح کے لئے شرمناک شرائط پیش کی گئیں جو اس نے مسترد کر دیں۔
اپریل کے اواخر میں سرنگا پٹم کے قلعے کے باہر انگریزوں نے توپیں نصب کر دیں اور گولہ باری شروع کر دی۔ تین مئی کو قلعے کی فصیل میں چھوٹا شگاف پڑ گیا۔ 4 مئی کو میرصادق کے مشورے پر انگریزوں نے حملہ کیا اور میرصادق نے تنخواہیں دینے کے بہانے ان سپاہیوں کو بلا لیا جو فصیل کے اس شگاف کی حفاظت پر مامور تھے چنانچہ انگریز فوج قلعے میں داخل ہو گئی۔
جب ٹیپو سلطان کو خبر ملی تو وہ پا پیادہ دوڑے اور منتشر فوج کو اکٹھا کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ جب سپاہی اپنی قوت کھو بیٹھے تو ٹیپو سلطان گھوڑے پر سوار ہو کر قلعے کے ایک دروازے کی طرف بڑھے۔ میر صادق نے وہ دروازہ بند کروا دیا تھا تاکہ ٹیپو سلطان باہر نہ جا سکیں۔ ٹیپو سلطان کے وفاداروں نے میرصادق کی غداری کو بھانپتے ہوئے اسے قتل کر دیا اور ٹیپو سلطان انگریزوں کے خلاف لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔
