جب ایک لڑکی نے ٹرین میں ’قائداعظم‘ کو لوٹنے کی کوشش کی، پھر کیا ہوا؟

دلچسپ تاریخی واقعہ
بابائے قوم قائدِاعظم ایک دفعہ ریل میں سفر کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے لیے صرف ایک برتھ ریزرو کروائی تھی اور سامنے والی برتھ خالی تھی۔
ایک چھوٹے سے اسٹیشن پر گاڑی رُکی، تو ایک اینگلو انڈین لڑکی ان کے ڈبّے میں آکر دوسرے برتھ پر بیٹھ گئی۔ ٹرین چلنے لگی، تو وہ لڑکی اچانک اُٹھ کھڑی ہوئی اور قائداعظم سے مخاطب ہوکر بولی کہ ’’تمہارے پاس جو کچھ ہے، میرے حوالے کر دو۔ ورنہ میں زنجیر کھینچ کر لوگوں سے کہوں گی کہ یہ شخص میرے ساتھ زبردستی کرنا چاہتا ہے۔‘‘
قائدِاعظم اُس وقت کچھ کاغذات دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے سَر نہیں اُٹھایا اور نہ اُس کی بات کا کوئی جواب دیا۔ لڑکی نے اپنی بات دُہرائی، لیکن وہ پھر بھی خاموش رہے۔ آخر تنگ آکر اُس نے قائدِاعظم کا کندھا ہلایا اور تیسری مرتبہ اپنا مطالبہ پیش کیا۔
قائدِ اعظم نے اوپر دیکھا اور اشارے سے اسے سمجھایا کہ ’’مَیں بہرہ ہوں، مُجھے کچھ سنائی نہیں دیتا۔ جو کچھ کہنا ہے، مُجھے لکھ کر دو۔‘‘ اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے کاغذ اور قلم اس کی طرف بڑھا دیا۔ لڑکی اُن کے اس جوابی دائو کی تہہ تک نہ پہنچ سکی اور اس نے اپنا مدّعا کاغذ پر لکھ کر ان کے حوالے کر دیا۔
قائدِاعظم نے فوراً زنجیر کھینچ کر گاڑی رُکوائی اور اُس لڑکی کو اُس کی تحریر کے ساتھ ریلوے حُکّام کے سُپرد کردیا۔ تاہم، اس دن کے بعد بھی وہ اپنے لیے دو برتھس ہی ریزرو کروایا کرتے، چاہے تنہا ہی کیوں نہ ہوتے۔
