نیشنل
مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا
StaffStaff Reporter
Nov 25, 2025 · 6:43 PM

مولانا فضل الرحمان کا 27ویں آئینی ترمیم پر شدید ردعمل: "یہ نہ دستور کی بہتری ہے، نہ عوامی مفاد"
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے جمہوریت، پارلیمانی اقدار اور عوامی مفاد کے خلاف قرار دیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 26ویں ترمیم ایک باہمی عہدو پیمان تھا، لیکن 27ویں ترمیم میں ہمیں نظر انداز کیا گیا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 26ویں ترمیم، جو عدلیہ سے متعلق ہے، ابھی عدالت میں زیر سماعت ہے، اس کے فیصلے کا انتظار کیے بغیر نئی ترمیم لائی گئی۔ ان کے مطابق 27ویں ترمیم میں ایسی پیچیدگیاں موجود ہیں کہ عدالتیں بھی ان کی تفہیم میں مشکلات کا شکار ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اس ترمیم کے بعد حکومت کی عوامی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے بھی اس عمل میں جمہوریت کی نفی کی، اور ترمیم کی منظوری کے لیے پارٹی ارکان کو جبری طور پر توڑا گیا، جعلی اکثریت حاصل کی گئی۔
مولانا نے کہا کہ یہ تمام عمل پارلیمنٹ کی روح اور جمہوری اصولوں کے خلاف ہے، اور اس سے حکومت کی ساکھ میں اضافہ نہیں بلکہ نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسی ترامیم جو عوامی اعتماد اور آئینی شفافیت کو متاثر کریں، انہیں فوری طور پر واپس لیا جائے۔
ریمارک نیوز کی اپ ڈیٹس واٹس ایپ پر حاصل کریںچینل فالو کرنے کے لیے کلک کریں
ADVERTISEMENT
