جاپان دنیا کا سب سے بڑا جوہری پلانٹ دوبارہ فعال کرنے کو تیار، عوام کی مخالفت، سڑکوں پر نکل آئے

جوہری پاور پلانٹ 15 سال سے بند کیوں تھا؟
جاپان نے دنیا کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹ کاشیوازاکی‑ کاریوا کو دوبارہ فعال کرنے کی تیاری کر لی ہے اور اس فیصلے کے خلاف عوامی احتجاج بھی جاری ہے۔
دنیا کا سب سے بڑا مذکورہ پلانٹ فوکوشیما حادثے کے بعد تقریباً 15 سال سے بند تھا۔
حکومت کے مطابق پلانٹ کو دوبارہ چلانے کا مقصد توانائی کی کمی کو پورا کرنا اور فوسل فیول پر انحصار کم کرنا ہے۔
منصوبے کے پہلے مرحلے میں کچھ ری ایکٹرز 2026 میں دوبارہ فعال کیے جانے کا امکان ہے، تاہم عوام خاص طور پر فوکوشیما حادثے سے متاثرہ لوگ اس فیصلے کے خلاف ہیں اور مظاہروں میں حصہ لے رہے ہیں۔
نیگاتا میں تقریباً 300 افراد نے ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر No Nukes اور Restart نہ کرو جیسے نعرے درج تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پلانٹ کی دوبارہ افتتاحی کوششیں توانائی کے بحران کا حل تو ہو سکتی ہیں، مگر عوام میں نئی جوہری حادثے کے خدشات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔
