نیا صوبہ، ڈھکن سیاست… کیا پیپلز پارٹی بڑھتے دباؤ کا مقابلہ کر پائے گی؟

ملک کی سیاست ایک بار پھر اُس نہج پر کھڑی ہے جہاں آئینی ترامیم، صوبائی حقوق اور سیاسی جوڑ توڑ باہم گتھے ہوئے ہیں۔ 27ویں آئینی ترمیم کے دوران پیپلز پارٹی نے این ایف سی ایوارڈ میں کسی بھی ممکنہ تبدیلی پر صاف انکار کرتے ہوئے ایک مضبوط سرخ لکیر کھینچی تھی۔ یہ وہ فیصلہ تھا جس کی سیاسی قیمت پیپلزپارٹی کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے این ایف سی فارمولے میں تبدیلی کی تجویز مسترد کی، ترمیم تو منظور ہوگئی مگر جس مقصد کے لیے اسےلایا جا رہا تھا وہ حاصل نہ ہوسکا.
اسی کے بعد منظرنامہ اچانک تبدیل ہونا شروع ہوا۔ سندھ میں پیپلز پارٹی پر دباؤ بڑھانے کے لیے پہلے ایم کیو ایم کو ’’نیا صوبہ‘‘ اور ’’شہری حقوق‘‘ کے نعروں کے ساتھ میدان میں اُتارا گیا۔ چند دن شور برپا رہا، مگر جب پیپلز پارٹی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے گورنر سندھ کی تبدیلی تک کا اشارہ دے دیا تو ایم کیو ایم فوراً پیچھے ہٹ گئی اور سیاسی کشمکش اپنے پرانے مقام پر آگئی۔
یہاں کہانی ختم نہیں ہوتی۔ اس کے بعد ایک اور کھلاڑی جماعت اسلامی بطور پریشر گروپ سامنے لائی گئی۔ جماعت اسلامی اور ایم ایم نے کراچی میں بچے کے مین ہول میں گر ہلاک ہونے کے اشو پر بہت واویلا کیا۔ کراچی میں بچوں کے نالوں میں گرنے کے واقعات دردناک ضرور ہیں مگر بدقسمتی سے یہ شہر کے باسیوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ نااہلی اور غفلت اپنی جگہ، لیکن جس طرح اس سانحے کو بنیاد بنا کر پیپلز پارٹی کے خلاف مہم چلی، اُس نے واضح کردیا کہ یہ صرف انسانی حقوق کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی شطرنج کی چال بھی ہے۔ حد سے زیادہ منظم ردعمل اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ تاریں کہیں اور سے ہلائی جا رہی ہیں، مقصد ایک پیپلز پارٹی کو این ایف سی کے معاملے پر جھکانا اور 28ویں ترمیم کے لیے حمایت حاصل کرنا ہے۔
یہ دباؤ ایسا تھا کہ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت حرکت میں آگئی۔ بلاول بھٹو زرداری نے فوری نوٹس لیا، وزیراعلیٰ نے افسران کی معطلی کا حکم دیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا سوشل میڈیا کے ہنگامے یا ٹی وی ٹکرز کا سلسلہ چند دن میں تھم جائے گا، یا پھر کوئی نیا معاملہ اٹھا کر دباؤ کا نیا باب کھولا جائے گا؟ یہ پورا کھیل اعصاب کا ہے طاقت آزمائی کا ہے اور اس میں ہر فریق اپنی بساط بچھا چکا ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ اگر پیپلز پارٹی اس دباؤ سے نکل بھی آتی ہے تو کیا وہ مرکز میں بغیر طاقتور اداروں کی حمایت کے حکومت بنا سکے گی؟ طاقتور حلقوں کی خواہش این ایف سی میں تبدیلی ہے، اگر پیپلز پارٹی نہ مانی تو مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ موجودہ سیٹ اپ میں ن لیگ فیورٹ ہے اور امکان یہ ہے کہ شہباز شریف ہی آئندہ وزیراعظم رہیں گے۔ پیپلز پارٹی اگر پنجاب میں دوبارہ انٹری کی کوشش کرتی ہے تو مریم نواز اس راہ میں سیاسی رکاوٹ بنیں گی ۔ یوں شاید پیپلز پارٹی کو اگلے انتخابات میں سندھ تک محدود رکھنے کی حکمت عملی پہلے ہی تیار ہو چکی ہو۔
اگر پیپلز پارٹی یہ محسوس کرتی ہے کہ مرکز کی سیاست میں اُس کے لیے راستے تنگ کیے جا رہے ہیں، تو اس کے پاس ایک مؤثر حکمتِ عملی یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ اقتدار کی دوڑ سے وقتی طور پر الگ ہو کر اپوزیشن کے بینچوں سے حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب عمران خان سیاسی منظرنامے پر دوبارہ غیر متوقع انداز میں موجود ہیں اور کسی بھی سیاسی فریم میں فٹ نہیں ہو رہے،اُن کا کردار نظام کے لیے مسلسل ایک غیر یقینی عنصربنا ہوا ہے۔
یہی وہ موڑ ہے جہاں اصل سوال فیصلہ سازوں کے سامنے کھڑا ہےاگر پیپلز پارٹی کو مسلسل دیوار سے لگانے کی پالیسی جاری رکھی گئی، اور اس نے ردعمل میں تحریک انصاف کے ساتھ ایک غیر روایتی سیاسی مفاہمت اختیار کرلی، تو ملکی سیاست کی پوری بساط یکدم الٹ بھی سکتی ہے۔ ایسا اتحاد نہ صرف موجودہ سیاسی انجینئرنگ کے فارمولوں کو ناکام بنا سکتا ہے بلکہ طاقت کے مراکز کے لیے نئی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔
فیصلہ سازوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ پاکستان کی سیاست میں کوئی بھی فیصلہ قطعی نہیں ہوتا ہر موڑ ایک نئے امکان کی گنجائش رکھتا ہے۔ لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ بعض فیصلے وقتی فائدہ تو دیتے ہیں، مگر ان کی طویل المدتی قیمت بہت بھاری پڑتی ہے۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ فیصلے جذبات کے نہیں بلکہ سیاسی حقیقت پسندی، تدبر اور قومی استحکام کو مدِنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں۔
