چین نے کم ہوتی آبادی میں اضافے کیلئے کنڈوم پر ٹیکس بڑھانے کا اعلان کردیا

نئی بحث چھڑ گئی
بیجنگ: دنیا کی سب سے بڑی آبادی رکھنے والا ملک چین گرتی ہوئی شرحِ پیدائش سے نمٹنے کے لیے ایک غیر معمولی قدم اٹھانے جا رہا ہے، اس ضمن میں چینی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ سال سے کنڈوم اور دیگر مانع حمل اشیاء پر ٹیکس بڑھایا جائے گا، جس کا مقصد ملک میں بچوں کی پیدائش کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق یکم جنوری 2026سے کنڈوم پر 13فیصد ویلیو ایڈیڈ ٹیکس عائد کیا جائے گا، جس کے بعد تیس برس سے جاری ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ ہو جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ چین کو درپیش آبادیاتی بحران کے تناظر میں کیا گیا ہے، کیونکہ ملک میں گزشتہ تین برسوں سے آبادی میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق چین میں نوجوانوں کی بڑی تعداد شادی اور بچوں کی ذمہ داریوں سے گریز کر رہی ہے، جس کی وجہ مہنگائی، رہائشی مسائل اور بچوں کی پرورش پر آنے والے بھاری اخراجات ہیں۔ حکومت پہلے ہی مالی مراعات، اضافی زچگی رخصت اور سہولیات جیسے اقدامات کر چکی ہے، مگر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔
کنڈوم پر ٹیکس بڑھانے کے فیصلے نے عوامی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے خاندان بڑھانے کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے، جبکہ ماہرینِ صحت خبردار کر رہے ہیں کہ مانع حمل اشیاء مہنگی ہونے سے غیر محفوظ جنسی رویوں اور صحت کے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
چینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم آبادی میں توازن قائم رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے اور مستقبل میں مزید پالیسی اقدامات بھی متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ چین کی آبادیاتی پالیسی میں ایک نیا اور متنازع موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
