ہر چیز قبول، مگر ہتھیار ہرگز نہیں ڈالیں گے: حزب اللہ کا واضح اعلان

اسرائیل کیساتھ جاری سفارتی کوششوں کی حمایت
حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ ان کی جماعت لبنانی حکومت کی اسرائیل کے ساتھ جاری سفارتی کوششوں کی حمایت کرتی ہے، جن کا مقصد اسرائیلی حملوں کو روکنا اور خطے میں امن قائم رکھنا ہے۔
تاہم نعیم قاسم نے حالیہ مذاکرات میں شہری نمائندے کی شمولیت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ یہ اقدام حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوشش کے مترادف ہے۔
انہوں نے جمعے کو ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے جارحیت ختم کرنے اور نومبر 2024 کے سیز فائر معاہدے کو نافذ کرنے کے لیے سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا ہے، جس کی حزب اللہ حمایت کرتی ہے، مگر شہری نمائندے کی شمولیت ایک اضافی غلطی ہے۔
بدھ کو لبنانی اور اسرائیلی شہری نمائندوں نے دہائیوں بعد پہلی بار براہِ راست بات چیت کی، جس کا مقصد لبنان میں ایک نئی جنگ کے امکانات کو روکنا تھا۔
حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے اس اقدام پر حکومت سے دوبارہ غور کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ کیا آپ نے مفت رعایت دے دی؟ یہ رعایت نہ تو دشمن کے موقف کو بدلے گی، نہ اس کی جارحیت کو کم کرے گی اور نہ قبضے پر اثر ڈالے گی۔
نعیم قاسم نے اسرائیل اور امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ لبنانی حکام گولوں کی بوچھاڑ کے نیچے مذاکرات کریں، انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ اپنے عوام، ملک اور مزاحمتی موقف کے دفاع کے لیے ہر چیز قربان کرنے کو تیار ہے، مگر ہتھیار ہرگز نہیں ڈالے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل گزشتہ سال کے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے، جس کا مقصد ایک سال سے زائد جاری جھڑپوں کو ختم کرنا تھا۔ قاسم کے مطابق حزب اللہ لبنان کی خودمختاری اور دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے، اور حکومت کو اس ضمن میں محتاط رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔
