پاکستان کا تجارتی خسارہ 19ارب ڈالرز سے تجاوز کرگیا

مالی سال 2025-26 کے پہلے چھ ماہ یعنی جولائی سے دسمبر کے دوران پاکستان کے تجارتی خسارے میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اس عرصے میں تجارتی خسارہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 34.6 فیصد بڑھ کر 19 ارب 20 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔
وفاقی ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق زیرِ جائزہ مدت میں درآمدات میں 11.28 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 34 ارب 40 کروڑ ڈالر ہو گئیں، جبکہ برآمدات میں 8.7 فیصد کمی دیکھی گئی اور ان کا حجم 15 ارب 18 کروڑ ڈالر رہا۔
دسمبر کے مہینے میں بھی تجارتی خسارہ نمایاں طور پر بڑھا، جو سالانہ بنیادوں پر تقریباً 23.8 فیصد اضافے کے ساتھ 2 ارب 85 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجہ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ رہا۔
اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 میں پاکستان کی برآمدات ایک سال قبل کے اسی مہینے کے مقابلے میں 20.4 فیصد کم ہو کر 2 ارب 32 کروڑ ڈالر رہ گئیں، جبکہ اسی دوران درآمدات میں دو فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور وہ بڑھ کر 6 ارب 2 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق تجارتی خسارے میں مسلسل اضافہ ملکی معیشت کے لیے ایک اہم چیلنج بنتا جا رہا ہے، جس پر قابو پانے کے لیے برآمدات میں اضافے اور درآمدی دباؤ کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔
