ہوم/نیشنل/پرندوں کے شکار پر جھگڑا،سابق صوبائی وزیرقبول شاہ کےبیٹے نے ہمارے بیٹے کوقتل کردیا،ورثا کا الزام
نیشنل
پرندوں کے شکار پر جھگڑا،سابق صوبائی وزیرقبول شاہ کےبیٹے نے ہمارے بیٹے کوقتل کردیا،ورثا کا الزام
StaffStaff Reporter
Nov 29, 2025

ہماری نہر سے شکار کیوں کیا؟سابق صوبائی وزیر کے بیٹے نے گائوں کے رہائشی کوقتل کیا،ورثا کا لاش رکھ کر دھرنا
ٹنڈو محمد خان: سندھ کے ضلع ٹنڈو محمد خان میں مبینہ طور پر سابق صوبائی وزیر کے بیٹے نے ساتھیوں کے ہمراہ پرندوں کے شکار کے الزام میں ایک شخص کو قتل کردیا۔ ورثا نے دھرنا دے کر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنا کا مطالبہ کردیا ہے۔
واقعہ 29 نومبر کو ملاکاتیار کے علاقے میں پیش آیا، جہاں مبیبنہ طور پرنہرپرسائبیریا سے آئے پرندوں کے شکار پرجھگڑا شروع ہوگیا، فائرنگ کے نتیجے میں چالیس سالا محمد حسین ملاح جاں بحق ہوگیا۔ورثا نے لاش سمیت دھرنا دے کر روڈ بند کرلیا،جس میں خواتین اور مرد بھی شامل تھے۔
ورثا نے الزام لگایا ہے کہ سابق صوبائی وزیر قبول شاہ کے بیٹے اور یوسی چیئرمین شیر شاہ گارڈز کے ساتھ فصلوں میں آئے،محمد حسین پر پرندوں کا شکار کرنے کا الزام لگایا اورفائرنگ کرکے اسے قتل کردیا۔ فائرنگ میں شیرشاہ کے گارڈ حبیب جمالی اور ساتھی نیاز ملاح ملوث ہیں۔ محمد حسین کومارا گیا،مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے نے نہرسے پرندوں کا شکار بھی نہیں کیا تھا اور نہ ہی نہرکے آسپاس موجود تھا۔ ہمارے لوگوں کو پرندوں کی طرح مارا جا رہا ہے۔لیکن کوئی سننے والا نہیں۔ملزم بااثر ہونے کے باعث پولیس نے بھی مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا۔
پولیس کا موقف
ادھرملاکاتیار پولیس نے بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مقتول نیاز ملاح نہر میں پرندوں کا شکار کر رہا تھا تو جھگڑا ہوا،فائرنگ میں حسین ملاح جاں بحق اورملزم نیاز ملاح زخمی ہوگیا، جسے زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ پولیس کے بیان میں مقتول کے ورثا کیجانب سے سابق صوبائی وزیر کے بیٹے سے متعلق کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
دوسری طرف قبول شاہ کے بیٹے اور ترجمان سے موقف لینے کوشش کی گئی،تاہم رابطہ نہ ہوسکا۔
ریمارک نیوز کی اپ ڈیٹس واٹس ایپ پر حاصل کریںچینل فالو کرنے کے لیے کلک کریں
