اپنے ڈانس کی ویڈیو کے ذریعے ڈیجیٹل تشدد کا شکار ’وائرل گرل‘ کون؟

کردار داؤ پر لگ گیا
سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی ریٹنگ کی دوڑ میں خواتین اکثر ڈیجیٹل تشدد کا شکار ہو رہی ہیں، جس میں ان کی نجی ویڈیوز، تصاویر اور ذاتی معلومات کو بغیر اجازت شیئر کرکے لائکس اور کمنٹس حاصل کیے جاتے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد کی مدیحہ ارشد نامی یونیورسٹی کی طالبہ کو اس وقت اذیت کا سامنا کرنا پڑا جب ان کی کلاس میں ریکارڈ کی گئی مختصر ویڈیو بغیر ان کی رضامندی کے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی گئی۔
ویڈیو میں بہاولپور کی رہائشی مدیحہ کا معمولی ڈانس تھا، لیکن اسے مختلف کیپشنز اور سنسنی خیز انداز میں پیش کیا گیا، جس سے ہزاروں کلکس اور لائکس حاصل ہوئے، چند گھنٹے بعد مدیحہ نے انسٹاگرام کھولا تو وہ اپنی ویڈیو دیکھ کر سن ہو کر رہ گئی۔
جس پیج پر یہ ویڈیو اپ لوڈ کی گئی تھی اس کے ایڈمن کو مدیحہ نے ویڈیو ہٹانے کی درخواست کی تو اس نے اپنے پیج سے تو ویڈیو ہٹا لی لیکن تب تک کافی دیر ہو چکی تھی۔ یونیورسٹی کے کئی پیجز اور پھر سیڑوں اکاؤنٹس اسے عجیب و غریب کیپشنز کے ساتھ شیئر کر چکے تھے۔
اس طرح مدیحہ ’وائرل گرل‘ کے نام سے مشہور ہوگئی، لیکن یہ شہرت ان کے لیے خوشی کا باعث بننے کے بجائے ذہنی اذیت کا سبب بن گئی۔ اس پر مدیحہ کا کہنا تھا کہ شروع میں مجھے سمجھ ہی نہیں آیا کہ میرے ساتھ ہو کیا گیا ہے۔ میری تعلیم، میرا اعتماد اور میرا کردار سب داؤ پر لگ گئے۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کی کارروائیاں ’ڈیجیٹل تشدد‘ میں شمار ہوتی ہیں، جس میں عورت کی نجی زندگی، جسمانی خدوخال اور ذاتی معلومات کو آن لائن مواد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے اثرات صرف آن لائن محدود نہیں رہتے بلکہ متاثرہ خواتین نفسیاتی دباؤ، اضطراب اور سماجی علیحدگی کا سامنا کرتی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خواتین اکثر اس تشدد کا شکار اس لیے بنتی ہیں کیونکہ معاشرتی رویے اور میڈیا کے پلیٹ فارمز انہیں ریٹنگ اور منافع کے لیے بطور ’کانٹینٹ یونٹ‘ دیکھتے ہیں۔ قانونی اقدامات موجود ہیں، جیسے پاکستان کا PECA Ordinance، لیکن آگاہی کی کمی اور قوانین کے نفاذ میں کمزوری کے باعث متاثرہ خواتین کو مکمل تحفظ نہیں مل پاتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشرتی شعور، میڈیا اخلاقیات اور خواتین کی خود ارادیت کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے، تاکہ ڈیجیٹل تشدد کے بڑھتے رجحان کو کم کیا جا سکے۔
