انٹرنیشنل
نیشنل گارڈز پر حملہ: امریکا نے افغانیوں کی امیگریشن درخواستیں روک دیں
EditorStaff Reporter
Nov 27, 2025

امریکا میں موجود افغان کمیونٹی تشویش میں مبتلا
واشنگٹن: امریکا نے افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستوں کو فوری طور پر روک دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب وائٹ ہاؤس کے قریب وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ سے دو نیشنل گارڈز شدید زخمی ہو گئے۔
حکام نے بتایا کہ مشتبہ حملہ آور کی شناخت 29 سالہ رحمان اللہ لکانوال کے نام سے ہوئی ہے جو افغانستان کا شہری، وہ 2021 میں امریکا آیا تھا۔
اس واقعے کے بعد امریکی حکومت نے افغان شہریوں کی ویزا، پناہ گزینی اور دیگر امیگریشن درخواستوں کی پروسیسنگ غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کو "دہشت گردی اور انسانیت کے خلاف جرم" قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغان شہریوں کے داخلے کے عمل کا مکمل جائزہ لیا جائے گا۔
امریکی شہریت و امیگریشن سروسز (USCIS) نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ "تمام افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستوں کی پروسیسنگ فوری طور پر روک دی گئی ہے تاکہ سکیورٹی اور وِیٹنگ پروسیجرز کا دوبارہ جائزہ لیا جا سکے۔
فیڈرل حکام کے مطابق نیشنل گارڈز پر حملے کی تحقیقات جاری ہیں اور اس کے محرکات ابھی واضح نہیں۔ تاہم افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستیں روکنے کے فیصلے نے امریکا میں موجود افغان کمیونٹی اور ان افراد کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جو امیگریشن کے عمل میں تھے۔
واضح رہے کہ 26 نومبر کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈ کے 2 اہلکاروں کو گولی مار دی گئی اور اہلکاروں کی حالت اس وقت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
ریمارک نیوز کی اپ ڈیٹس واٹس ایپ پر حاصل کریںچینل فالو کرنے کے لیے کلک کریں
