خطرناک عمارتیں: SBCAاور سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی کے افسران کا گھیرا تنگ کرنیکی تیاری

کراچی: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی 588 خطرناک عمارتیں منہدم کرنے میں ناکام ہوگئی، جبکہ سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی نےغیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو اجازت دے دی۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں دونوں محکموں کے خلاف کاروائی کی سفارش کردی گئی، جبکہ سندھ اسمبلی نے بھی رپورٹ کی منظوری دے دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹیکنیکل کمیٹی نے 588 خطرناک عمارتیں منہدم کرنے کی منظوری دی تھی، تاہم بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے خطرناک عمارتیں منہدم نہ کرکے عوام کی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں بد انتظامی اور اندرونی کمزوریاں عروج پر ہیں۔
آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی نے قوائد سے ہٹ کر لے آوٹ پلان جاری کئے، لے آوٹ پلان بھی غیر قانونی طور پر ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو جاری کیے گئے، جبکہ ہاؤسنگ اسکیمیں طے شدہ معیار کے مطابق بھی نہیں ہیں۔ ہاؤسنگ سوسائٹی میں 8 فیصد پارک، 3 فیصد تعلیمی استعمال اور 20 فیصد کھلی فضا لازمی ہے۔ انہی قوائد پر عمل نہ کرتے ہوئے کمرشل اراضی زیادہ رکھی گئی۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق یہ معاملات اکتوبر 2024 میں معاملات رپورٹ ہوئے، جبکہ جنوری 2025 تک متعدد خطوط لکھے گئے لیکن متعلقہ حکام کا کوئی جواب نہیں ملا۔ رپورٹ میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور سندھ ماسٹر پلان کے متعلقہ افسران کے خلاف کاروائی کی سفارش کی گئی۔ جبکہ سندھ اسمبلی نے آڈٹ رپورٹ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو ارسال کردی۔
