سمارٹ فون بچوں کے لیے کتنا خطرناک،نئی تحقیق میں انکشاف

کونسی بیماریاں جنم لیتی ہیں
اسمارٹ فون کے استعمال سے بچے خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔امریکی جریدہ
امریکی تحقیقاتی ادارے Adolescent Brain Cognitive Development Study (ABCD) کی تازہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ 12 سال کی عمر سے کم بچوں کو اسمارٹ فون دینے سے اداسی، وزن میں اضافہ اور نیند کی کمی کے امکانات نمایاں حد تک بڑھ جاتے ہیں۔ رپورٹ میں 10,500 سے زائد بچوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جس کے نتائج واضح کرتے ہیں کہ فون رکھنے والے بچوں میں اداسی کا خطرہ 1.3 گنا، موٹاپے کا 1.4 گنا اور ناکافی نیند کا 1.6 گنا زیادہ ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جتنی چھوٹی عمر میں بچوں کو فون دیا جائے گا، جسمانی اور ذہنی نشوونما پر منفی اثر اتنا ہی بڑھ جائے گا۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر رین بارزیلائی نے کہا ہے کہ والدین کو بچوں کو فون دینے کی عمر اور ان کے استعمال پر خاص توجہ دینی چاہیے تاکہ ذہنی دباؤ، نیند کی کمی اور وزن میں غیر ضروری اضافہ سے بچا جا سکے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر فوری ضرورت نہ ہو تو بچوں کو اسمارٹ فون دینے میں تاخیر کرنا بہتر ہے، تاکہ وہ اپنی قدرتی نشوونما، سیکھنے کی صلاحیت اور خودمختاری برقرار رکھ سکیں۔ یہ تحقیق بچوں کی صحت اور ذہنی ترقی کے حوالے سے والدین کے لیے واضح انتباہ ہے کہ فون صرف سہولت کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسا عنصر ہے جو بچوں کی نشوونما اور روزمرہ کی زندگی پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق والدین کے لیے سب سے اہم سفارش یہ ہے کہ وہ بچوں کو فون دینے سے پہلے عمر، استعمال کی مقدار اور نگرانی پر مکمل توجہ دیں تاکہ فون کے ممکنہ منفی اثرات سے بچا جا سکے۔
