سڈنی دہشتگری: زخمی حملہ آور نوید اکرم پر 15 افراد کے قتل سمیت 59 مقدمات درج

آسٹریلیا کے ساحلی علاقے بونڈائی میں ہونے والے ہولناک حملے میں پولیس مقابلے کے بعد زندہ بچ جانے والے حملہ آور نوید اکرم پر 59 سنگین الزامات عائد کر دیے گئے ہیں، جن میں 15 افراد کے قتل، دہشت گردی اور ارادہ قتل کے الزامات شامل ہیں۔
نیو ساؤتھ ویلز پولیس کے مطابق نوید اکرم کو منگل کے روز کومے سے ہوش میں آنے کے بعد بدھ کو باضابطہ طور پر چارج کیا گیا۔ اسے اتوار کی شب جائے وقوعہ سے گرفتار کر کے شدید زخمی حالت میں سڈنی کے اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ مقدمہ بدھ کی سہ پہر عدالت میں پیش کیا جانا تھا۔
عدالتی حکام کے مطابق نوید اکرم پر درج الزامات میں دہشت گردی کی کارروائی، 40 افراد کو قتل کی نیت سے زخمی کرنا، عمارت کے قریب دھماکا خیز مواد رکھنے، جان لیوا فائرنگ اور دہشت گرد تنظیم کی علامت کی نمائش جیسے الزامات شامل ہیں۔
پولیس کا مؤقف ہے کہ نوید اکرم اور اس کے والد ساجد اکرم نے اتوار کو بونڈی بیچ پر ہنوکہ کی تقریب میں شریک افراد پر فائرنگ کی، واقعے کے دوران ساجد اکرم پولیس فائرنگ سے ہلاک ہو گیا، جبکہ پولیس کے مطابق حملے میں استعمال ہونے والے اسلحے کو اس نے قانونی طور پر حاصل کیا تھا۔
تین روز قبل سڈنی کے بونڈائی ساحل پر باپ اور بیٹے نے یہودیوں کے تہوار کے موقع پر تقریب پر اندھا دندھ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ حملے میں 40 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ حملہ کرنے والے نوید اکرم کو پولیس نے موقع پر ہی گرفتار کر لیا تھا جبکہ دوسرا حملہ آور ساجد اکرم پولیس کی فائرنگ میں ہلاک ہوگیا تھا۔
حملے میں ہلاک ہونے والا ساجد اکرم بھارت کے شہر حیدرآباد کا رہائشی تھا جبکہ اس کے بیٹے نوید اکرم کے پاس آسٹریلین شہریت ہے۔
