واپڈا کے منصوبوں میں 466 ارب روپے کی بے ضابطگیاں، آڈٹ رپورٹ میں ہوشربا انکشافات

اسلام آباد: واپڈا کے منصوبوں میں 466 ارب روپے کی بے ضابطگیاں، آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں ہوشربا انکشافات کیے گئے ہیں۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے مالی سال 2023-24 کے آڈٹ کے دوران واپڈا کے مختلف منصوبوں میں 466 ارب روپے کی 126 مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق بے ضابطگیاں خریداری، معاہداتی انتظام، مالی و اثاثہ جاتی امور اور مختلف انتظامی شعبوں میں پائی گئیں۔
اے جی پی کی رپورٹ کے مطابق وزارتِ آبی وسائل اور اس کے ماتحت اداروں کی 110 فارمیشن کا آڈٹ کیا گیا جن کے اخراجات 236.55 ارب روپے اور وصولیاں 103.746 ارب روپے تھیں۔
سالانہ آڈٹ پلان 2024-25 کے تحت مزید 50 فارمیشن کا آڈٹ کیا گیا، جن میں مالی سال 2023-24 کے دوران 222.402 ارب روپے کے اخراجات اور 102.624 ارب روپے کی آمدن رپورٹ ہوئی۔ علاوہ ازیں مالی سال 2022-23 کی 13 تشکیلوں کا بھی آڈٹ کیا گیا۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق خریداری میں 17.617 ارب روپے،کنٹریکٹ مینجمنٹ میں 67.79 ارب روپے، مالی انتظام میں سنگین خامیاں جن کی مالیت 280.923 ارب روپے، اثاثہ جات کے انتظام میں 1.002 ارب روپے، بینک اکاؤنٹس سے متعلق بے ضابطگیاں 5.866 ارب روپے، ملازمین و ایچ آر کے معاملات میں 2.035 ارب روپے،سروس ڈیلیوری اور ویلیو فار منی میں 3.265 ارب روپے،دیگر مسائل میں 106.448 ارب روپے کی بے ضابطگیاں کی گئیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آڈٹ کے نتیجے میں 9.586 ارب روپے کی ریکوری کی نشاندہی کی گئی، تاہم سال 2024 کے دوران صرف 47.439 ملین روپے کی رقم ہی واپس حاصل کی جا سکی۔واپڈا کے زیر تعمیر اہم منصوبے دیامر بھاشا ڈیم، داسو ہائیڈروپاور منصوبہ، تربیلا 5th ایکسٹینشن، مہمند ڈیم، کرم تنگی ڈیم اور نائی گاج ڈیم بھی انتظامی خامیوں سے متاثر پائے گئے۔
آڈٹ میں بولیوں کی جانچ میں بے قاعدگیاں، پیپرا قوانین کی خلاف ورزی، معاہدوں کی شقوں پر عمل نہ کرنا اور سرکاری گاڑیوں کا غلط استعمال بھی رپورٹ کیا گیا۔
آڈٹ حکام نے کراچی کے لیے پانی کی فراہمی کے بڑے منصوبے K-IV میں بھی سنگین تاخیر کی نشاندہی کی ہے۔ کینجھر جھیل سے روزانہ 260 ملین گیلن پانی کی فراہمی کے لیے 2022 میں دیے گئے کنٹریکٹس کے باوجود منصوبے میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔انتظامیہ نے یقین دہانی کروائی ہے کہ ٹھیکیداروں سے 501.964 ملین روپے کی ریکوری کی جائے گی اور نظام میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کرنے کے لیے اصلاحاتی اقدامات کیے جائیں گے۔
