کراچی: خودکش حملے کیلئے تیار کی گئی کم عمر لڑکی کو ریسکیو کرلیا گیا، لڑکی کون ہے؟

لڑکی کو کس نے خودکش حملے کیلئے تیار کیا؟ سازش بے نقاب
سکیورٹی اداروں نے کراچی کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا۔ دہشت گردوں کی جانب سے خودکش حملے کے لیے تیار کی گئی ایک کم عمر طالبہ کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے ریسکیو کر لیا گیا۔
وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی آزاد
خان اور کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ دہشت گردوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس بچی سے رابطہ کیا، اسے کہانیاں سنائی گئیں اور ذہن سازی کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بچی اور اس کے اہلخانہ کی حفاظت کو اولین ترجیح دے رہی ہے، اس لیے ان کی شناخت ظاہر نہیں کی جا رہی۔
ایڈیشنل آئی جی آزاد خان کے مطابق کالعدم بی ایل اے کے ایک کارکن
نے انسٹاگرام پر بچی سے رابطہ کیا اور پھر اسے واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا۔ ابتدا میں اسے نفرت انگیز مواد دکھایا گیا اور بعد میں ریاست مخالف سوچ پیدا کر کے اسے خودکش بمبار بنانے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ بچی کو کراچی سے باہر لے جایا گیا تھا، لیکن 25دسمبر کی شب ایک انتہائی حساس انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کم عمر بچی کو بحفاظت تحویل میں لیا گیا۔ بعد میں اہلخانہ کو بلا کر تمام حقائق سے آگاہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز اور انتہا پسند مواد کے ذریعے معصوم ذہن کو بتدریج زہر آلود کیا گیا، بچی والدہ سے چھپ کر موبائل استعمال کرتی رہی، دہشت گرد ہینڈلرز نے اسی کمزوری کا فائدہ اٹھایا۔
ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی سندھ کے مطابق ڈی بریفنگ کے دوران بچی نے نیٹ ورک اور طریقہ واردات کی مکمل تفصیلات فراہم کیں، کم عمری کے باعث خاندان کو فوری طور پر طلب کیا گیا، والدہ اور بہن بھائی کراچی پہنچے، بچی کو مکمل تحفظ اور عزت کے ساتھ خاندان کے حوالے کیا گیا، تفتیش کا عمل جاری ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کم عمری کے باعث بچی کو ملزم نہیں سمجھا جا رہا بلکہ اسے تحفظ اور رہنمائی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ محفوظ زندگی گزار سکے۔
