ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں جعلی ملازمین کا انکشاف

یونیورسٹی میں 3500 ملازمین میں سے صرف 450 کی ڈگریوں کی تصدیق
سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور لاڑکانہ میونسپل کارپوریشن کے آڈٹ پیراز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں جعلی ڈگریوں پر بھرتیوں اور جعلی پینشن کی ادائیگیوں کے انکشافات سامنے آئے۔
اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں ہوا، جس میں اراکین قاسم سومرو اور طاحہ احمد نے شرکت کی۔
ڈاؤ یونیورسٹی میں 10 ملازمین جعلی ڈگریوں پر بھرتی پائے گئے، جن میں سے 8 کو فارغ کر دیا گیا جبکہ 2 کو شوکاز نوٹس جاری ہیں۔
یونیورسٹی میں 3500 ملازمین میں سے صرف 450 کی ڈگریوں کی تصدیق ہو سکی ہے۔ وی سی ڈاکٹر نازلی حسین کے مطابق ڈگریوں کی تصدیق کا عمل ایچ آر ایس جی کمپنی کے سپرد کیا گیا ہے۔
آڈٹ رپورٹ میں اعتراض کیا گیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے ڈگریوں کی تصدیق کے بغیر مختلف ادوار میں بھرتیاں کیں، حالانکہ سالانہ 2 ارب 33 کروڑ روپے تنخواہوں پر خرچ ہو رہے ہیں۔
ڈاؤ یونیورسٹی میں 2500 ملازمین کانٹریکٹ پر ہیں جبکہ جولائی 2021 سے جون 2025 تک 3023 افراد کو مختلف بنیادوں پر بھرتی کیا گیا۔
پی اے سی نے جعلی ڈگریوں پر بھرتیوں کے انکشاف کے بعد سندھ بھر کی سرکاری جامعات کو ہدایت دی کہ تین ماہ کے اندر تمام ملازمین و افسران کی ڈگریاں ہائر ایجوکیشن کمیشن سے تصدیق کرائی جائیں۔
دوسری جانب، لاڑکانہ میونسپل کارپوریشن کے آڈٹ پیراز میں انکشاف ہوا کہ 150 پینشنرز میں سے صرف 34 کے لائف اور نو میریج سرٹیفیکیٹ پیش کیے گئے، جس پر کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ باقی پینشن کی ادائیگیاں جعلی طریقے سے تو نہیں ہو رہیں۔
چیئرمین پی اے سی نے محکمہ بلدیات سے استفسار کیا کہ کے ایم سی کی طرح دیگر میونسپل کارپوریشنز میں سیپ سسٹم کیوں نافذ نہیں کیا جا رہا۔ ایڈیشنل سیکریٹری بلدیات نے بتایا کہ فروری یا مارچ 2026 تک حیدرآباد، لاڑکانہ، سکھر، میرپورخاص اور شہید بینظیر آباد میں بھی تنخواہیں و پینشنز سیپ سسٹم کے تحت آن لائن کر دی جائیں گی۔
پی اے سی نے جعلی تنخواہوں اور پینشن کی روک تھام کے لیے سندھ بھر کی تمام میونسپل کارپوریشنز کو فوری طور پر سیپ ڈیجیٹل سسٹم نافذ کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
