دنیا بھر میں لاکھوں بچوں کی زندگیاں خطرے میں: عالمی ادارے نے خبردار کردیا

گیٹس فاؤنڈیشن کی رپورٹ میں چشم کشا انکشافات
لندن: دنیا بھر میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات اس برس 2025 میں پہلی بار اس صدی میں دوبارہ بڑھ سکتی ہیں، یہ انتباہ عالمی تنظیم گیٹس فائونڈیشن نے اپنی تازہ رپورٹ میں دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2024 میں تقریباً 46 لاکھ بچے اپنی پانچویں سالگرہ سے پہلے انتقال کر گئے تھے۔ تاہم 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 48 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے، یعنی ایک اندازے کے مطابق 200,000 اضافی اموات ہو سکتی ہیں، اگر موجودہ امدادی کمی برقرار رہی تو 2045 تک مزید 12 سے 16 ملین بچوں کی اموات کا خطرہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر صحت اور ترقی کے لیے دی جانے والی امداد میں نمایاں کمی آئی ہے، 2025 میں امداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں تقریباً 26.9 فیصد کم رہی، جس سے غریب اور ترقی پذیر ملکوں میں ویکسینیشن پروگرام، پولیو اور ملیریا کی روک تھام، انفیکشن کنٹرول اور بنیادی صحت کی سہولیات متاثر ہوئیں۔ اس کے نتیجے میں قابلِ روک بیماریوں کے شکار بچوں کی شرح بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کے مطابق 2000 کے بعد دنیا بھر میں بچوں کی اموات تقریبا نصف ہو گئی تھیں، جو ایک دیرینہ عالمی صحت کی کامیابی تھی۔ لیکن موجودہ صورتحال میں یہ ترقی خطرے میں ہے اور اگر امداد میں کمی کو فوری طور پر درست نہ کیا گیا تو پچھلی دہائیوں کی کامیابی ضائع ہو سکتی ہے۔
فاؤنڈیشن نے عالمی حکومتوں اور امدادی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بچوں کی صحت کے لیے ویکسینیشن، غذائیت، بنیادی صحت کی سہولیات اور مستحکم طبی نظام پر دوبارہ سرمایہ کاری کریں۔ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ “ابھی وقت ہے کہ ہم تاریخ کے اس موڑ پر درست فیصلے کریں تاکہ لاکھوں بچوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔”
رپورٹ میں خاص طور پر سب صحارا افریقہ، جنوبِ ایشیا اور کچھ کم آمدنی والے ممالک کو زیادہ خطرے میں قرار دیا گیا ہے، جہاں بنیادی صحت کے نظام اور ویکسینیشن پروگرام پہلے ہی کمزور ہیں۔ اگر امداد بحال نہ ہوئی تو ان علاقوں میں اموات کی شرح میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
