یورپی سفیروں کے روس مخالف مشترکہ آرٹیکل پر بھارت برہم کیوں، ماجرا کیا ہے؟

آرٹیکل سفارتی آداب کے منافی قرار
بھارت کے سابق خارجہ سیکرٹری کانول سبل نے یورپی سفارتکاروں کے مشترکہ مضمون پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ظالمانہ ہے، سفارتی آداب کے منافی ہے اور اس کا مقصد بھارت میں روس مخالف بیانیہ کو ہوا دینا ہے۔
کانول سبل بات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں نے مطالبہ کیا کہ بھارتی وزارتِ خارجہ کو اس نامناسب رویے پر یورپی سفیروں کے خلاف کھل کر احتجاج کرنا چاہیے۔
یہ تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے سفیروں نے ایک بڑے بھارتی اخبار میں مشترکہ مضمون شائع کروایا، جس میں انہوں نے روس اور صدر ولادیمیر پوتن پر یوکرین جنگ کے حوالے سے سخت تنقید کی۔
بھارت کی وزارت خارجہ نے اس مضمون کو بہت غیر معمولی اور ناقابل قبول سفارتی عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کے سفیروں کا کسی تیسرے ملک کے خلاف بھارتی میڈیا کے ذریعے عوامی تنقید کرنا سفارتی اصولوں کے خلاف ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق اگر یورپی ممالک کو کوئی اعتراض تھا تو اسے باقاعدہ سفارتی ذرائع کے ذریعے بھارتی حکومت کے سامنے لایا جانا چاہیے تھا، نہ کہ اخبارات میں مضمون لکھ کر۔
یہ معاملہ اس لیے بھی حساس ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن 4 اور 5 دسمبر کو بھارت کے اہم دورے پر آنے والے ہیں، جہاں وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ سالانہ انڈیا–روس سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔
اس موقع پر دفاع، توانائی اور تجارت سے متعلق کئی بڑے معاہدوں پر بات چیت ہونے کی توقع ہے۔ ایسے وقت میں یورپی سفارتکاروں کی اس عوامی تنقید کو نئی دہلی میں غیر ضروری سفارتی دباؤ پیدا کرنے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔
بھارت نے واضح کیا ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی آزاد ہے اور وہ کسی بیرونی دباؤ کے تحت اپنے اسٹریٹجک تعلقات میں تبدیلی نہیں کرتا۔ یورپی مضمون اور اس کے جواب میں کانول سبّل کے سخت بیان نے اس معاملے کو ایک نمایاں سفارتی اختلاف میں بدل دیا ہے۔
