لاہور ہائی کورٹ نے اسنوکر کلب کے کاروبار کو قانونی قرار دیدیا

لاہور ہائیکورٹ نے اسنوکر کلب کے کاروبار کو قانونی اور جائز قرار دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم کر دیا۔
جسٹس جواد ظفر نے شہری محمد راشد کی اپیل پر پانچ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ اسنوکر کلب چلانا ایک قانونی اور تفریحی سرگرمی ہے اور اس پر کسی قانون کے تحت پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔ آئین ہر شہری کو قانونی کاروبار کرنے کا حق دیتا ہے۔
عدالتی فیصلے میں مزید وضاحت کی گئی کہ بلیئرڈ اور اسنوکر کے کھیل نہ تو غیر اخلاقی ہیں اور نہ ہی قانون کے مطابق ممنوع۔ اس لیے کسی بھی قانونی دائرے میں چلنے والے کاروبار کو مبہم شکایات کی بنیاد پر غیر معینہ مدت تک بند نہیں کیا جا سکتا۔
درخواست گزار محمد راشد نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ سرگودھا میں اسنوکر کلب چلاتے ہیں، جہاں عوام کو بلیئرڈ کھیلنے کی سہولت اور تفریح فراہم کی جاتی ہے۔ عدالت نے اس مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے اسنوکر کلب کے کاروبار کو درست اور قانونی قرار دیا۔
