امریکہ اور کینیڈا سرحد پر پانچ بڑی جھیلوں میں پانی خطرناک حد تک کم ہوگیا

دونوں ممالک کے لاکھوں لوگ پریشان
واشنگٹن: امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع گریٹ لیکس میں پانی کی سطح مسلسل کم ہو رہی ہے۔ گریٹ لیکس پانچ بڑی جھیلوں کون کہا جاتا ہے، جن میں لیک سپیریئر، لیک مشی گن، لیک ہیوران، لیک ایری اور لیک اونٹاریو شامل ہیں۔
یہ جھیلیں امریکہ اور کینیڈا کے سرحدی علاقوں میں واقع ہیں اور دونوں ممالک کے لاکھوں افراد کو پینے کا پانی فراہم کرتی ہیں۔
ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، کم بارش اور بڑھتے درجۂ حرارت کے باعث گریٹ لیکس میں پانی کی سطح معمول سے نیچے جا رہی ہے، ایسے وقت میں امریکہ میں ڈیٹا سینٹرز کا تیزی سے قیام تشویش کا باعث بن گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز دراصل بڑے کمپیوٹر مراکز ہوتے ہیں جہاں انٹرنیٹ، مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سوشل میڈیا، بینکنگ اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کا ڈیٹا محفوظ اور پراسیس کیا جاتا ہے اور مراکز کو چلانے اور مشینوں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بہت زیادہ پانی اور بجلی کی ضرورت ہوتی ہے۔
ماحولیاتی تنظیموں اور مقامی کمیونٹیز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی تعداد سے پینے کے پانی، آبی حیات اور قدرتی ماحولیاتی نظام پر دباؤ میں اضافہ ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پانی کے استعمال پر سخت قوانین نافذ نہ کیے گئے تو گریٹ لیکس کا قدرتی توازن متاثر ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ٹیکنالوجی کمپنیاں مؤقف اختیار کر رہی ہیں کہ ڈیٹا سینٹرز کے قیام سے روزگار کے مواقع اور معاشی ترقی میں اضافہ ہوگا، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پانی کے استعمال کو محدود رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور کینیڈا کے لیے نہایت اہم اس آبی خطے میں ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے، بصورت دیگر آنے والے برسوں میں پانی کی قلت ایک سنگین چیلنج بن سکتی ہے۔
