انٹرنیشنل
سانحہ ہانگ کانگ، عوامی غم و غصہ میں اضافہ چین کیلئے چیلنج
EditorStaff Reporter
Nov 30, 2025

عوام کیلئے وارننگ جاری
ہانگ کانگ کے تائی پو ضلع میں واقع رہائشی کمپلیکس Wang Fuk Court میں لگی بھیانک آگ نے شہر کو شدید سوگ میں مبتلا کر دیا۔ ہلاکتوں کی تعداد 128 ہوگئی جبکہ 150 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
حادثے کے مقام پر شہریوں کی بڑی تعداد پھول، موم بتیاں اور تعزیتی پیغامات لیے جمع ہوئی۔ سوگ کے ساتھ ساتھ عوام میں غصہ بھی دیکھنے میں آیا، جہاں کئی افراد نے الزام لگایا کہ عمارت کی مرمت کے دوران نصب کیے گئے بانس کے اسکیفولڈنگ اور اس پر چڑھی ہوئی پلاسٹک شیٹس نے آگ کو غیر معمولی رفتار سے پھیلنے میں کردار ادا کیا۔
بہت سے متاثرین کے مطابق، اگر فائر سیفٹی کے اصولوں پر مناسب عمل ہوتا تو جانی نقصان کم ہو سکتا تھا۔
عوام کے ردِعمل کی شدت بڑھنے پر بیجنگ نے سخت وارننگ جاری کی ہے کہ اس سانحے کو کسی بھی قسم کی احتجاجی تحریک یا "سماجی بے امنی" کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ چینی حکام نے واضح کیا کہ ہانگ کانگ میں قومی سلامتی قانون کے تحت کسی بھی طرح کی بگاڑ کی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی۔
ہانگ کانگ پولیس نے ایک یونیورسٹی طالب علم کو اس الزام میں گرفتار کیا ہے کہ اُس نے سوشل میڈیا پر احتجاج کی کال دی تھی۔ اسی طرح، عمارت کی مرمت کے ٹھیکے دار ادارے کے 11 ملازمین کو حراست میں لے کر آتشزدگی کے ممکنہ اسباب کے حوالے سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
سانحہ نے نہ صرف انسانی جانوں کا بڑا نقصان کیا ہے بلکہ ہانگ کانگ میں عمارتوں کی سلامتی، تعمیراتی ضوابط اور نگرانی کے نظام کی سنگین خامیوں کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ واقعے کے بعد چینی حکومت نے ملک گیر سطح پر تمام بلند عمارتوں کی فائر سیفٹی کا ہنگامی جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے کارکن اس سانحے کی آزاد اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ متاثرین کے خاندان انصاف کے منتظر ہیں۔ ہانگ کانگ کے شہری اس تباہی کو صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ محفوظ رہائش اور حکومتی شفافیت کے مستقبل کے لیے ایک نیا امتحان قرار دے رہے ہیں۔
ریمارک نیوز کی اپ ڈیٹس واٹس ایپ پر حاصل کریںچینل فالو کرنے کے لیے کلک کریں
