پاکستان کی آبادی 2050 تک 38 کروڑ سے زائد ہونے کا امکان

ہوشربا اضافہ
پاکستان کی موجودہ آبادی تقریباً 251 ملین ہے اور فی کس آمدنی تقریباً 1,484 امریکی ڈالر ہے۔ عالمی تحقیقاتی ادارہ پاپولیشن کائونسل کی تازہ رپورٹ کے مطابق اگر موجودہ شرح نمو برقرار رہی تو پاکستان کی آبادی 2050 تک تقریباً 386 ملین تک پہنچ سکتی ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بڑھتی آبادی کے باعث پانی، بجلی، صحت، تعلیم اور روزگار جیسے بنیادی وسائل پر شدید دباؤ پڑے گا۔
کائونسل نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ اگر خاندانی منصوبہ بندی اور سماجی اصلاحات پر فوری توجہ نہ دی گئی تو یہ اضافہ ملک کے لیے ایک سنگین چیلنج بن سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کی تعلیم و روزگار، خاندانی منصوبہ بندی کے پروگرام اور سماجی بہبود کے اقدامات آبادی کے تیز رفتار اضافے کو قابو میں رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں دو اہم منظرنامے پیش کیے گئے ہیں،جس میں بتایا گیا کہ
موجودہ شرح پیدائش برقرار رہی تو آبادی 2050 تک 386 ملین تک پہنچ جائے گی،کنٹرول شدہ صورت: خاندانی منصوبہ بندی اور ترقیاتی اقدامات کے ذریعے آبادی تقریباً 338 ملین تک محدود رکھی جا سکتی ہے، جو وسائل کے لیے قابلِ انتظام ہوگی۔
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ آبادی کو صرف اعداد و شمار میں دیکھنا کافی نہیں۔ حکومت کو فوری اقدامات کرنے ہوں گے،جس میں بنیادی ڈھانچے اور عوامی سہولیات کی توسیع،صحت اور تعلیم کے نظام کو مضبوط بنانا،خاندانی منصوبہ بندی اور سماجی اصلاحات کو فروغ دینا شامل ہے۔
کائونسل کی رپورٹ ایک واضح انتباہ ہے کہ پاکستان اگر موجودہ شرح نمو کے ساتھ آگے بڑھتا رہا، تو 2050 تک بڑھتی آبادی وسائل، روزگار اور بنیادی سہولیات پر شدید دباؤ ڈال سکتی ہے۔ رپورٹ کا پیغام ہے کہ پائیدار ترقی اور سماجی بہبود کے لیے بروقت اور ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔
