عمران خان کی قید تنہائی بنا کسی تاخیر کے ختم کی جائے: اقوام متحدہ کا مطالبہ

’ناروا سلوک کی خبریں درست ہیں تو حکومت اقدامات کرے‘
اسلام آباد: اقوامِ متحدہ کی نمائندہ خصوصی ایلس جل ایڈورڈز کا کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل منتقل کیے جانے کے بعد سے عمران خان کو مبینہ طور پر حد سے زیادہ قید تنہائی میں رکھا گیا ہے جبکہ بیرونی دنیا تک ان کی رسائی بھی انتہائی محدود ہے۔ انہوں نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ’بنا کسی تاخیر کے عمران خان کی قید تنہائی ختم کی جائے۔‘
اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی نے پاکستانی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ عمران خان سے ناروا سلوک کی خبریں درست ہیں تو حکومت اقدامات کرے۔
انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پرحراست کے دوران مبینہ غیر انسانی اور نامناسب حالات پر شدید تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ میں پاکستانی حکام سے مطالبہ کرتی ہوں کہ عمران خان کی حراست کے حالات کو بین الاقوامی قوانین اور معیارات کے مطابق یقینی بنایا جائے۔
جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کے ساتھ روا رکھے جانے والے ایسے سلوک کی اطلاعات اگر درست ہیں تو یہ صورتحال تشدد یا غیر انسانی و ہتک آمیز سلوک کے زمرے میں آ سکتی ہیں میں پاکستانی حکام سے مطالبہ کرتی ہوں کہ عمران خان کی حراست کے حالات بین الاقوامی قوانین اور معیارات کے مطابق یقینی بنائے جائیں۔
نمائندہ خصوصی نے واضح کیا کہ طویل یا غیر معینہ مدت تک تنہائی میں رکھنا بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت ممنوع ہے، 15 دن سے زائد تنہائی نفسیاتی تشدد کے مترادف سمجھی جاتی ہے، اس لیے عمران خان کی تنہائی فوری طور پر ختم کی جانی چاہیے۔
