11 کروڑ 50 لاکھ سال پرانی شارک کا انکشاف

عظیم سفید شارک (Great White) سے بھی بڑی تھی۔
آسٹریلیا کے شمالی ساحل پر ڈارون کے قریب دریافت ہونے والی بڑی مچھلی کی ہڈیوں نے سائنس دانوں کو حیران کر دیا ہے۔ محققین نے ان قدیم فوسلز کا مطالعہ کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ یہ ہڈیاں ایک دیوہیکل شارک کی تھیں جو میگالڈون سے بھی پہلے سمندروں پر حکمرانی کرتی تھی۔ یہ شارک تقریباً 8 میٹر لمبی تھی، جو آج کی عظیم سفید شارک (Great White) سے بھی بڑی تھی۔
یہ دریافت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ میگا پریڈیٹر شارکوں کی تاریخ پہلے سمجھی جانے والی مدت سے کم از کم 15 ملین سال پرانی ہے۔ اس شارک کو "کارڈیبیوڈونٹڈ" خاندان سے تعلق رکھنے والا سمجھا جا رہا ہے، جو جدید شارکوں کی ابتدائی نسلوں میں شمار ہوتا ہے۔
کریٹیشیئس دور کے دوران، جب ڈائنوسار زمین پر موجود تھے، سمندروں میں یہ شارک دیگر دیوہیکل سمندری مخلوقات جیسے پلیسیوسار کے ساتھ رہتی تھی۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے نہ صرف شارکوں کی ارتقائی تاریخ پر نئی روشنی پڑی ہے بلکہ یہ بھی واضح ہوا ہے کہ سمندری شکاریوں کی دنیا میں طاقت کا توازن کس قدر قدیم ہے۔
اس تحقیق کو سائنسی جریدے "کمیونیکیشنز بایولوجی" میں شائع کیا گیا ہے، جہاں بتایا گیا ہے کہ دریافت شدہ فوسلز کو جدید ٹیکنالوجی جیسے سی ٹی اسکینز اور ریاضیاتی ماڈلز کے ذریعے جانچا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ شارک اپنی جسامت اور طاقت کے لحاظ سے سمندری حیات میں سب سے نمایاں شکاری تھی۔
ماہرین کے مطابق، یہ دریافت نہ صرف قدیم سمندری حیات کو سمجھنے میں مددگار ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ زمین کی تاریخ میں شارک ہمیشہ سے طاقتور شکاری رہی ہیں۔
یہ خبر سائنسی دنیا میں ایک اہم سنگ میل ہے، جو ہمیں بتاتی ہے کہ میگالڈون سے پہلے بھی سمندروں میں ایک دیوہیکل شارک کی حکمرانی قائم تھی
