پاکستان میں کتے کے کاٹنے سے سالانہ 2 سے 5 ہزار شہریوں کی اموات کا انکشاف

صوبہ سندھ ہائی رسک قرار
کراچی:چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت ریبیز کنٹرول پروگرام سندھ کے متعلق ایک اہم اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا، جس میں تمام ڈویژنل کمشنرز، محکمہ صحت، لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ، انڈس اسپتال اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ریبیز ایک جان لیوا وائرل بیماری ہے جو عموماً متاثرہ کتوں کے کاٹنے سے پھیلتی ہے۔
بریفننگ میں مزید کہا گیا کہ عالمی سطح پر ہر سال تقریباً 59 ہزار افراد اس بیماری کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جبکہ پاکستان میں سالانہ 2 سے 5 ہزار اموات رپورٹ ہوتی ہیں۔
اجلاس میں سندھ کو ریبیز کے حوالے سے ہائی رسک صوبہ قرار دیتے ہوئے مؤثر، مستقل اور مربوط اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومتِ سندھ بھر میں 250 ریبیز کے علاج اور بچاؤ کے مراکز قائم کر دیے ہیں جہاں متاثرہ افراد کو فوری پوسٹ ایکسپوژر پروفیلیکسیس اور ہنگامی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں،مزید 20 مراکز کے قیام پر کام جاری ہے جس سے ضلع اور تحصیل کی سطح پر عوام کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔
ریبیز کی روک تھام کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ RCPS کے تحت آوارہ کتوں کی ویکسینیشن، نس بندی اور آبادی پر کنٹرول کے لیے 20 خصوصی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں،کراچی کے چھ اضلاع میں مراکز مکمل طور پر فعال ہیں جبکہ حیدرآباد ڈویژن کے ضلع مٹیاری میں بھی ایک مرکز کام کر رہا ہے،ضلع ملیر میں مرکز زیر تعمیر ہے، دادو میں مرمت و بحالی کا کام جاری ہے، جبکہ بدین، ٹنڈو اللہ یار، حیدرآباد اور جامشورو میں مراکز کے قیام کے لیے ٹینڈرنگ کا عمل جاری ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اکتوبر 2025 تک 19 ہزار 449 آوارہ کتوں کی نس بندی اور 30 ہزار 729 کتوں کی ویکسینیشن مکمل کی جا چکی ہے۔ ویکسین شدہ کتوں کی ٹیگنگ اور جیو ٹیگنگ کے ذریعے نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے،شہریوں کی شکایات کے اندراج کے لیے ہیلپ لائن 1093 کے علاوہ اینڈرائیڈ اور آئی او ایس موبائل ایپس بھی فعال ہیں، جبکہ منصوبے کی نگرانی کے لیے ایک لائیو آن لائن ڈیش بورڈ بھی تیار کیا جا رہا ہے۔
مالی امور پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کی مجموعی لاگت 963.316 ملین روپے ہے، جس میں سے 31 اکتوبر 2025 تک 31.4 فیصد رقم خرچ کی جا چکی ہے،مالی سال 2025-26 کے لیے 265.02 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ منصوبے کی مدت جون 2026 تک بڑھا دی گئی ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے کہا کہ انسانی جانوں کا تحفظ حکومتِ سندھ کی اولین ترجیح ہے، ویکسینیشن اور نس بندی کے عمل میں تیزی، ریبیز مراکز کی مؤثر کارکردگی، عوامی آگاہی مہم کے فروغ اور بین الادارہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ہدایت دی۔
