برطانیہ میں یہودی کمیونٹی پر دہشتگرد حملے کی سازش کیسے ناکام بنائی گئی؟

شدت پسندوں نے کیا منصوبہ بندی کی تھی؟
برطانیہ میں سیکیورٹی اداروں نے مانچسٹر کی یہودی برادری پر ایک بڑے اور خطرناک دہشت گرد حملے کی سازش کو بروقت ناکام بنا دیا۔ عدالت نے داعش سے متاثر دو شدت پسندوں کو اس خطرناک منصوبے کا مجرم قرار دیا ہے، جس کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ اگر یہ حملہ کامیاب ہو جاتا تو اس کے نتائج نہایت تباہ کن ثابت ہوتے۔
پریسٹن کراؤن کورٹ میں جیوری نے 38 سالہ ولید سعداوی اور 52 سالہ عمار حسین کو مانچسٹر میں یہودی اہداف پر خودکار ہتھیاروں سے حملے کی منصوبہ بندی کا قصور وار ٹھہرایا۔
استغاثہ کے مطابق دونوں ملزمان نے خودکش نوعیت کے حملے کے لیے اے کے-47 رائفلیں، پستول اور 1200 گولیاں حاصل کرنے کا بندوبست کر رکھا تھا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ وہ یہودی علاقوں، اسکولوں اور عوامی اجتماعات کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ نگرانی کے دوران ایک خفیہ پولیس افسر کے سامنے سعداوی نے کہا تھا کہ اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانا ہے، چاہے متاثرین کی عمر یا جنس کچھ بھی ہو۔
گریٹر مانچسٹر پولیس کے اسسٹنٹ چیف کانسٹیبل راب پوٹس نے کہا کہ یہ منصوبہ برطانیہ کی تاریخ کے مہلک ترین دہشت گرد حملوں میں شمار ہو سکتا تھا اور گنجان آباد علاقے میں یہودی برادری کو نشانہ بنانے کے نتائج انتہائی خطرناک ہوتے۔
پولیس نے مئی 2024 میں خفیہ کارروائی کے دوران ملزم کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ کرائے کی گاڑی سے اسلحے کی پہلی کھیپ وصول کر رہا تھا۔ یہ اسلحہ پولیس نے خود فراہم کیا تھا اور پہلے ہی ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔ باڈی کیم فوٹیج میں ملزم کو فرار کی کوشش کرتے ہوئے دکھایا گیا، تاہم مسلح اہلکاروں نے فوری طور پر اسے قابو کر لیا۔
تفتیش سے یہ بھی سامنے آیا کہ ولید سعداوی 2015ء کے پیرس حملوں کے منصوبہ ساز عبد الحمید اباعود سے متاثر تھا اور اسی طرز کا حملہ دہرانا چاہتا تھا۔ ایم آئی فائیو کے مطابق سعداوی کے ماضی میں داعش سے وابستہ افراد سے روابط بھی رہے ہیں۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو دہشت گردی سے متعلق سنگین جرائم میں قصور وار قرار دیتے ہوئے سخت سزاؤں کا عندیہ دیا ہے۔ اس فیصلے کو برطانیہ میں دہشت گردی کے خلاف ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
