سانگھڑ کی کروڑوں کی سرکاری گندم فروخت کرکے دیگر اضـلاع منتقل کرنے کی کوشش

گندم سے بھرے9 ٹرک تحویل میں لے لیے گئے۔فوڈ اہلکاروں سمیت 14 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج
سانگھڑ کے قریب محکمہ فوڈ کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے کروڑوں روپے مالیت کی سرکاری گندگم فروخت کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ڈی ایف او اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 9 ٹرکس تحویل میں لے لی۔
ڈسٹرکٹ فوڈ افسران کے مطابق سانگھڑ کی تحصیل کھپرو میں سرکاری گودام سے غیرقانونی طور پر گندم نکالی گئی، جو کہ حیدرآباد اور نئوں کوٹ منتقل کی جا رہی تھی، اطلاع ملنے پر ڈسٹرکٹ فوڈ کےعملے نے چھاپا مارا۔
گودام کے قریب سے گندم سے بھرے 9 ٹرک تحویل میں لے کر تھانے منتقل کی گئیں۔جبکہ گندم کی غیرقانونی نقل و حرکت اور فروخت پر فوڈ اہلکاروں سمیت 14 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔
ڈی ایف او ساگھڑ کی مدعیت میں دائر مقدمے میں فوڈ انچارج عباس میمن، فوڈ انسپیکٹر عابد پنہور، حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے بیوپاری آفتاب اور نئوں کوٹ کے تاجر امیت کمار کو نامزد کیا گیا، جبکہ تحویل میں لی گئی ٹرکوں کے 9 ڈرائیورز کو بھی مقدمے میں شامل کیا گیا ہے۔
فوڈ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ تمام ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
