سابق وزیر بلدیات سندھ سمیت متعدد افسران نے سرکاری گاڑیاں ہتھیا لیں

کراچی: محکمہ بلدیات کی گاڑیاں سابقہ افسران نے ہتھیا لیں، سابق وزیر سمیت متعدد افسران کیجانب سے گاڑیاں واپس نے کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے گاڑیوں کی عدم وصولی کو بد انتظامی قرار دے دیا۔
رپورٹ کے مطابق گاڑیاں غیرقانونی طور پر مذکورہ افراد نے اپنے پاس رکھی ہیں، میونسپل ٹریننگ اینڈ ریسرچ کے پرنسپل نے سوزوکی کلٹس واپس نہیں کی، جبکہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے بھی گاڑی واپس نہیں کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سابق وزیر بلدیات نے 2 گاڑیاں واپس نہیں کی ہیں، جس نے ایک ویگو اور ایک ٹویوٹا فارچونر اپنے پاس رکھ لی ہے۔ اس کے علاوہ میڈیا کنسلٹنٹ لوکل گورنمنٹ ہونڈا سٹی ہتھیا لی، جبکہ سابق ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے سوزوکی خیبر واپس نہیں کی۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق کے ایم سی نے 2 گاڑیاں واپس نہیں کی، جبکہ کے ایم سی کے پاس سوزوکی کلٹس اور سوزوکی مہران گاڑیاں ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ تمام افسران و اہلکاروں کا محکمہ بلدیات سے تبادلہ ہو چکا ہے، یہ معاملہ مارچ 2024 میں آڈیٹر جنرل کے پاس رپورٹ ہوا، جبکہ سال 2024 اور 2025 میں متعدد بار خطوط لکھے گئے۔ اس کے باوجود گاڑیوں کی واپسی کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
سندھ اسمبلی نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپوٹر منظور کرتے ہوئے رپورٹ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سپرد کردی۔
