زمین کے قریب سے گزرنے والی پراسرار چیز خلائی مخلوق کا جہاز تھا؟ نئی بحث چھڑ گئی

سائنس دان سر جوڑ کر بیٹھ گئے
ایک سرد دسمبر کی رات تھی جب دنیا بھر کے فلکیات دانوں کی نظریں خلا میں ایک پراسرار شے پر جم گئیں۔ یہ شے، جسے 3i/ATLAS کا نام دیا گیا، زمین کے قریب ترین مقام سے گزرتی ہوئی تقریباً ایک لاکھ تیس ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہی تھی۔ زمین سے اس کا فاصلہ 17 کروڑ میل تھا، جو سورج کے فاصلے سے تقریباً دو گنا بنتا ہے۔
یہ پراسرار چیز جمعہ 19 دسمبر کو زمین کے قریب ترین مقام سے گزری تھی، اس کی ایک جھلک نے ماہرین کو دو حصوں میں بانٹ دیا۔ ایک طرف ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرِ فلکیات ایوی لوب تھے، جنہوں نے یہ امکان ظاہر کیا کہ یہ کسی غیر زمینی مخلوق کا خلائی جہاز بھی ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق جب خلا میں کسی اجنبی سے ملاقات ہو تو یہ اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ وہ دوست ہے یا دشمن، اور اگر یہ واقعی کسی غیر زمینی ٹیکنالوجی کا حصہ ہوا تو ممکنہ خطرہ بھی بن سکتا ہے۔
دوسری طرف ناسا کے سائنسدان ایمت کشتریا اور آکسفورڈ یونیورسٹی
کے پروفیسر کرس لنٹوٹ نے اس خیال کو یکسر مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ شے
ایک عام دمدار ستارہ ہے جس کی تمام خصوصیات اسی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ کرس لنٹوٹ نے
اسے خلائی مخلوق سے جوڑنے کو محض سنسنی خیز دعویٰ قرار دیا۔
ماہرین کے مطابق یہ دمدار ستارہ تقریباً آٹھ ارب سال پرانا ہو
سکتا ہے، جو ہماری کہکشاں میں کسی دوسرے ستارے کی پیدائش کے دوران وجود میں آیا
ہوگا۔
یوں ایک ہی فلکیاتی مظہر نے دنیا بھر میں تجسس، بحث اور سنسنی
کو جنم دیا۔ کچھ لوگ اسے خلائی مخلوق کا پیغام سمجھ رہے ہیں، جبکہ اکثریت اسے
کائنات کی قدرتی کہانی کا ایک اور باب قرار دے رہی ہے۔ یہ پراسرار شے چاہے کچھ بھی
ہو، اس نے انسان کو ایک بار پھر یاد دلایا ہے کہ خلا کی وسعتوں میں ابھی بہت کچھ
ہے جو ہماری سمجھ سے باہر ہے۔
