جنسی وائرل بیماریوں کے علاج میں بڑی پیش رفت، نئی اینٹی بائیوٹکس تیار

گونوریا ایک جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماری ہے جو ایک مخصوص جراثیم کی وجہ سے ہوتی ہے اور زیادہ تر غیر محفوظ جنسی تعلق کے ذریعے پھیلتی ہے، یہ بیماری مردوں اور عورتوں دونوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گونوریا کی عام علامات میں پیشاب کے دوران جلن یا درد، مردوں میں پیشاب کی نالی سے پیلا یا سفید مادہ آنا، جبکہ عورتوں میں پیٹ کے نچلے حصے میں درد یا غیر معمولی رطوبت شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق بعض مریضوں میں بیماری کی کوئی واضح علامت ظاہر نہیں ہوتی، جس کے باعث بروقت تشخیص مشکل ہو جاتی ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر گونوریا کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ بیماری بانجھ پن، شدید انفیکشن اور دیگر سنگین پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ ماضی میں یہ بیماری عام اینٹی بائیوٹکس سے باآسانی ٹھیک ہو جاتی تھی، تاہم حالیہ برسوں میں اس کے جراثیم نے متعدد دواؤں کے خلاف مزاحمت پیدا کر لی ہے، جس سے علاج ایک بڑا طبی چیلنج بن گیا تھا۔
گونوریا کے علاج میں اب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، اس ضمن میں بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق دہائیوں بعد پہلی بار دو نئی اینٹی بائیوٹکس متعارف کرائی گئی ہیں جنہیں ماہرین صحت نے دوا کے خلاف مزاحم گونوریا کے علاج میں ”ایک فیصلہ کن موڑ“ قرار دیا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق نئی ادویات زولیفلوڈاسن اور جیپوٹیداسن نے کلینیکل آزمائشوں میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، جہاں مریضوں میں بیماری کے خاتمے کی شرح 90 فیصد سے زائد ریکارڈ کی گئی۔ یہ ادویات خاص طور پر ان مریضوں کے لیے مؤثر ثابت ہوئی ہیں جن پر روایتی اینٹی بائیوٹکس اثر انداز نہیں ہو رہی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گونوریا دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی جنسی بیماریوں میں شامل ہے، جس کے سالانہ لاکھوں نئے کیسز سامنے آتے ہیں۔ اس تناظر میں نئی اینٹی بائیوٹکس کی تیاری کو عالمی صحت کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ نئی ادویات کے ساتھ ساتھ ادویات کے ذمہ دارانہ استعمال، احتیاطی تدابیر اور عوامی آگاہی نہایت ضروری ہے تاکہ مستقبل میں مزید مزاحم جراثیم کے پیدا ہونے کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔
