افغانستان میں خوراک کی کمی لاکھوں خاندانوں کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکی، صورتحال مزید بگڑنے لگی

اقوام متحدہ نے خبردار کردیا
افغانستان میں جاری معاشی بحران، بڑھتی ہوئی غربت اور شدید غذائی قلت نے عام شہریوں کی زندگی کو انتہائی مشکل بنا دیا۔
اقوامِ متحدہ کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ طالبان کے زیرِ انتظام ملک میں بھوک اور افلاس کی صورتحال مسلسل سنگین ہوتی جا رہی ہے، جبکہ موسمِ سرما میں حالات مزید بگڑنے کا خدشہ ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے مطابق افغانستان میں ایک کروڑ 70 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور سخت سردی میں بنیادی خوراک کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خوراک کی کمی لاکھوں خاندانوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق ملک میں غذائی قلت کا شکار بچوں کی تعداد 40 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ بچوں میں غذائی کمی کی شرح گزشتہ کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی ہے، جو ایک سنگین انسانی المیے کی نشاندہی کرتی ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ شدید معاشی زوال، روزگار کے محدود مواقع اور کمزور معیشت نے عوام کی آمدنی اور بنیادی ضروریات تک رسائی کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے باعث عام شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسیف پہلے ہی افغانستان میں انسانی بحران پر تشویش کا اظہار کر چکی ہے۔ یونیسیف کے مطابق دو سال سے کم عمر کے تقریباً 90 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، جو آنے والے برسوں میں صحت کے سنگین مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔
انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بدانتظامی، معاشی بدحالی اور مؤثر حکومتی اقدامات کے فقدان کی بھاری قیمت افغان عوام بھوک، غربت اور افلاس کی صورت میں ادا کر رہے ہیں، جبکہ عالمی ادارے فوری اور مؤثر انسانی امداد کی فراہمی پر زور دے رہے ہیں۔
