اسٹور انتظامیہ کو گٹر پر ڈھکن لگانا چاہیے تھا: مرتضیٰ وہاب نے ننھے ابراہیم کی ہلاکت پر معافی مانگ لی

وزیراعلیٰ سندھ کا انکوائری کا حکم
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نیپا چورنگی پر گٹر میں بچے کے گر کر جاں بحق ہونے والے واقعہ پر معافی معانگ لی۔
مرتضیٰ وہاب نے جاں بحق بچے ابراہیم کے گھر پہنچ کر اہل خانہ سے تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افسوسناک واقعہ ننھے ابراہیم کے ساتھ پیش آیا، ابراہیم کی والدہ کی چیخوں پر میرے پاس الفاظ نہیں، میں بچے کے گھر والوں سے معافی مانگتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ شاہ فیصل کالونی ابراہیم کے گھر پر گیا والد، دادا اور خاندان سے ملاقات کی، ابراہیم کے دادا نے خواہش کی ایسے اقدامات کیے جائیں کہ کسی اور کے ساتھ ایسا نہ ہو، خاندان تکلیف اور درد سے گزر رہا ہے اس لیے وہاں گفتگو نہیں کی۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ بنیادی طور پر جس طرح کا رسپانس ہونا چاہیے تھا وہ نہیں تھا، بنیادی طور پر 12-14 لوگ وہاں کھڑے ہوئے جس کی وجہ سے ریسکیو کا کام نہیں ہو پایا، بحثیت حکومت خلل ڈالنے والوں کو روکنا ہماری ذمہ داری تھی، وفاقی اردو یونیورسٹی کے پاس کام ہو رہا تھا وہاں سے شاول پہنچا لیکن کام نہیں ہوا۔
میئر کراچی کا مزید کہنا تھا کہ جتنے ادارے حادثے سے متعلقہ ہیں وہ سب اس واقعے کے لوگ ذمہ دار ہیں، وزیر اعلیٰ سندھ نے واقعے کے بعد فوری اجلاس طلب کیا اور انکوائری کا حکم دیا۔ سیوریج کارپوریشن کے متعلقہ انجینئر کو معطل کر دیا گیا ہے۔ کے ایم سی کے سینئر ڈائریکٹر کو بھی معطلی کا سامنا کرنا پڑا۔ ضلعی مختیار کار اور اسسٹنٹ کمشنر کو معطل کر دیا گیا۔
مرتضیٰ وہاب کا یہ بھی کہنا تھا کہ نجی اسٹور والے کی ذمہ داری تھی وہاں لاکھوں کروڑوں کا کاروبار کر رہا، اسٹور والوں کو وہاں ڈھکن لگا دینا چاہئے تھا، اسٹور والوں کی غفلت ہے۔
واضح رہے کہ اتوار کی شب 10 بجے کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں نیپا چورنگی کے قریب واقع ڈپارٹمیٹل اسٹور سے 3 سالہ بچہ ابراہیم والدین کے ہمراہ نکل کر مین ہول پر کھڑا ہو گیا تھا جس کا ڈھکن نہ ہونے کی وجہ سے عارضی طور پر اسے گتے کی مدد سے بند کیا گیا تھا۔
اس موقع پر گتہ بچے کا وزن برداشت نہ کر سکا جس کے بعد ابراہیم مین ہول میں گر کر لاپتہ ہوگیا تھا، کھلے مین ہول میں گرنے والے بچے کی لاش 15 گھنٹے بعد ایک کلو میٹر دور نالے سے ملی تھی۔
