خصوصی اسٹوریز
6گھنٹے کا اذیتناک سوشل ایکسپریمنٹ جس نے انسانیت کا پردہ چاک کردیا
EditorStaff Reporter
Nov 28, 2025

پتلا بن کر کھڑی لڑکی کیساتھ لوگوں نے کیا سلوک کیا؟
یہ سال 1974 میں ہونے والا ایک عجیب و غریب یا پھر خوفناک سوشل ایکسپریمنٹ تھا، اٹلی کے شہر نیپلز کی ایک آرٹ گیلری میں لوگوں کا ہجوم اکٹھا تھا۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ اگلے چھ گھنٹوں میں وہ انسان کی تاریک ترین فطرت کا سامنا کرنے والے ہیں۔ مگر سب سے زیادہ خطرے میں کھڑی تھی ایک اکیلی عورت، جس نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر خود کو وحشی درندوں کے سامنے کھڑا کردیا۔
مرینا ایبرامووِچ Marina Abramović، وہ اپنے وقت کی جرات مند ترین فنکارہ تھی، اور اس روز اس نے ایک ایسا تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس پر آج بھی دنیا کانپ جاتی ہے۔
گیلری کے داخلی دروازے پر ایک سادہ سا کارڈ رکھا تھا جس پر مرینا نے لکھ رکھا تھا ’ For 6 hours, I am an object‘ آپ جو چاہیں میرے ساتھ کر سکتے ہیں، میں بالکل مزاحمت نہیں کروں گی۔
مرینا ایک میز کے قریب کھڑی تھی، جس پر 72 مختلف اشیاء رکھی تھیں، کچھ بے ضرر اور کچھ خوفناک حد تک خطرناک، ان میں شامل اہم چیزیں یہ تھیں: گلاب، شہد، پنکھ، پانی، قینچی، چاقو، خنجر، زنجیر، کوڑا، نمک، ایک پستول اور ایک گولی۔
لوگوں نے پہلے ہنسی، حیرت اور تجسس سے مرینا کو دیکھا، پھر آہستہ آہستہ گیلری کا رنگ بدلنے لگا، شروع میں لوگ محتاط تھے، کسی نے مرینا کے ہاتھ پر پھول رکھے، کسی نے اس کے کندھے چھوئے، کسی نے پانی پلایا، مرینا بالکل جامد کھڑی رہی، جیسے سچ میں وہ ایک سبجیکٹ تھیں۔
لوگوں کو مزہ آنے لگا، تجسس بڑھتا جا رہا تھا، پھر خوفنال کھیل کا آغاز ہوا، انسان کی بدترین شکل سامنے آنے لگی۔ ایک شخص آیا اس نے قینچی اٹھائی اور مرینا کے کپڑے کاٹنے شروع کردیے، ایک عورت نے اس کے جسم پر سوئیاں چبھوئیں، کسی نے اس کو میز پر دھکا دیا۔ ایک آدمی نے مرینا کی جلد پر خنجر پھیرا۔
گیلری کا ماحول بدل چکا تھا، اب جو بھی مرینا کے پاس آتا، اپنی چھپی ہوئی شخصیت ظاہر کرتا، اب لوگ مرینا کو انسان نہیں سمجھ رہے تھے، مرینا کے زخموں سے خون رس رہا تھا، آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے لیکن وہ پھر بھی ایک پتلے کی طرح خاموش کھڑی رہی، کچھ لوگوں نے اس کے کپڑے نوچ ڈالے، زنجیر سے باندھنے کی کوشش کی، ایک شخص نے تو مرینا کا ریپ کرنے کی بھی کوشش کی۔
پھر ایک لمحہ ایسا آیا جس سے پوری گیلری لرز گئی، ایک لڑکا آگے بڑھا، اس نے میز پر رکھا پستول اٹھایا اور وہ گولی پستول میں ڈال کر مرینا کے ہاتھ میں رکھا، پھر بندوق کا رخ اس کے گلے کی طرف کیا۔
گیلری میں سناٹا چھا گیا، لوگ چیخنے لگے، کیوں؟ کیونکہ اچانک سب کو احساس ہوا کہ وہ حیوان بن چکے تھے۔ ایک خاتون نے مداخلت کرکے مرینا کے ہاتھ سے پستول چھین لی، اسی لمحے گیلری کا وقت ختم ہو گیا، 6 گھنٹے کا یہ تجربہ خوفناک ترین کامیابی کیساتھ اختتام پذیر ہوا۔
پرفارمنس ختم ہوتے ہی مرینا نے جیسے ہی ہلنا شروع کیا، گیلری میں موجود لوگ بھاگ کھڑے ہوئے! جو لوگ چھ گھنٹے تک اس پر ظلم کرتے رہے، وہ اس کی آنکھوں کا سامنا نہیں کر سکے۔
بعد میں مرینا نے ایک انٹرویو میں اس ایکسپریمنٹ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ لوگوں کو مکمل اختیار دے دیں تو وہ آپ کو مارنے میں دیر نہیں لگاتے۔ میں نے انسانیت کی سب سے تاریک سچائی اپنے جسم میں محسوس کی۔
یہ تجربہ جسے Rhythm 0 کا نام دیا گیا آرٹ نہیں، انسانیت کا آئینہ تھا، جس نے ثابت کیا کہ انسان کی شخصیت کا اصل چہرہ تب سامنے آتا ہے جب اسے اختیار مل جائے اور روکنے والا کوئی نہ ہو۔ اگر سامنے والا مزاحمت نہ کرے تو لوگ ظلم کو تجربہ سمجھ لیتے ہیں۔ ہجوم میں ہر فرد خود کو بے قصور سمجھتا ہے لیکن عمل میں سب شریک ہو جاتے ہیں۔
یہ تجربہ آج بھی دنیا کے سب سے دہلا دینے والے سوشل ایکسپیریمنٹس میں شمار ہوتا ہے۔
ریمارک نیوز کی اپ ڈیٹس واٹس ایپ پر حاصل کریںچینل فالو کرنے کے لیے کلک کریں
