ایران میں مظاہرین کو قتل کیا گیا تو بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی: ٹرمپ کی ایک بار پھر ایران کو دھمکی

ٹرمپ نے ایرانی عوام کو پیغام میں کیا کہا؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں ایک بار پھر تہران کو سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے۔ ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر مظاہروں کے دوران شہریوں کو قتل کیا گیا تو امریکا ایران کو سخت اور بھرپور جواب دے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایرانی حکام کو دوٹوک پیغام دے دیا ہے کہ اگر مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا، جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے، تو امریکا خاموش تماشائی نہیں بنے گا۔
ادھر ایران میں حکومت مخالف احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں مظاہرین کی فائرنگ سے دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
انٹرویو کے دوران میزبان کی جانب سے مظاہروں میں درجنوں ہلاکتوں کا ذکر کیے جانے پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ بعض اموات بھگدڑ کے نتیجے میں بھی ہو سکتی ہیں اور ضروری نہیں کہ تمام ہلاکتیں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کا نتیجہ ہوں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ہر موت کا الزام کسی ایک فریق پر عائد نہیں کر سکتے، تاہم ایران کو سختی سے متنبہ کر دیا گیا ہے کہ اگر مظاہرین کے قتل کا سلسلہ جاری رہا تو اسے اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
ایران کے عوام کے نام پیغام میں امریکی صدر نے کہا کہ آپ آزادی کے لیے کھڑے ہیں، آپ بہادر لوگ ہیں اور آپ کے ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ افسوسناک ہے۔
واضح رہے کہ ایران میں گزشتہ بارہ روز سے مہنگائی، معاشی بدحالی اور کرنسی کی قدر میں شدید کمی کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، جن کے دوران اب تک درجنوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس سے قبل بھی امریکا ایران کو مظاہرین کے خلاف تشدد سے باز رہنے کی وارننگ دے چکا ہے۔
