ہم بھارت کے تمام جہاز گرا سکتے تھے، بھارت کے پاس ہمارے فوجی سربراہ جیسا دل گردہ نہیں ہے: صدر زرداری

صدر زرداری نے بنکر میں جانے سے انکار کیوں کیا تھا؟
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس صلاحیت تھی کہ بھارت کے مزید جنگی جہاز گرا سکتا، لیکن ہم نے رحم کیا۔ اگر کسی نے دوبارہ پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تو ہم پوری طرح تیار ہیں۔
گڑھی خدا بخش میں بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "پاکستان کھپے" کا نعرہ دراصل بے نظیر بھٹو کا نعرہ تھا، اور آج بھی یہ پیغام زندہ ہے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بھارت کے ساتھ تعلقات اور دفاعی معاملات پر سخت لہجہ اختیار کیا، انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مودی کو اب سمجھ آ گیا ہے کہ پاکستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے۔ بھارت کو شکر کرنا چاہیے کہ ہم نے لحاظ کیا، ورنہ ان کے تمام جہاز گرائے جا سکتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو بھی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا، یاد رکھے کہ یہاں زرداری اور پیپلز پارٹی کے جیالے موجود ہیں۔ صدر نے کہا کہ ہم نے ایسا فوجی سربراہ بنایا جس نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا۔ بھارت کو یہ سبق مل گیا ہے کہ پاکستان اپنی حفاظت کرنا جانتا ہے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ بھارت خود کو دنیا کی بڑی معیشت کہتا ہے لیکن چار دن کی جنگ بھی برداشت نہیں کر سکا۔ "تم وہ دل گردہ کہاں سے لاؤ گے جو ہمارے فوجی سربراہ کے پاس ہے؟"
آصف زرداری نے مزید کہا کہ بھارت بڑی طاقت ضرور ہے، لیکن پاکستان جیسا حوصلہ اور جرات کہاں سے لائے گا؟ پاکستان کے صدر، وزیراعظم اور آرمی
چیف جیسا دل گردہ بھارت کے پاس نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے دوبارہ جنگ مسلط کی تو ہم تیار ہیں۔
اپنے خطاب میں صدر زرداری نے ایک واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ جب جنگ کا خطرہ تھا تو انہوں نے اپنے کارکنوں کو کہا کہ تم بچ کر رہو، میں اکیلا مقابلہ کروں گا۔ ان کے ملٹری سیکرٹری نے انہیں بنکر میں جانے کا مشورہ دیا، لیکن
انہوں نے جواب دیا کہ ہم میدان میں مرتے ہیں، ہم تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان لڑائی نہیں چاہتا، لیکن اگر کوئی ہاتھ ہماری طرف بڑھے گا تو ہم جواب دیں گے۔ "جو بھی میلی آنکھ سے دیکھے گا، ہمارا چیف انہیں ناکوں چنے چبوا دے گا۔"
صدر زرداری نے عمران خان کا نام لیے بغیر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو مشکلات اور مسائل کا سامنا ہے، لیکن یہ آہستہ آہستہ کم ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایک "بیوقوف آدمی" نے چار سال میں دنیا بھر سے پاکستان
کے تعلقات خراب کیے اور معیشت کو تباہ کر دیا۔ تاہم اب آہستہ آہستہ دنیا کے ساتھ تعلقات دوبارہ بہتر ہو رہے ہیں اور اس عمل میں فوجی قیادت بھی ساتھ ہے۔
