ترکیہ میں 12ہزار سال پرانے ’انسانی چہرے‘ کے ستون کو قومی خزانہ کیوں قرار دیا گیا؟

ترک ماہرین آثار قدیمہ نے کراہان ٹیپی نامی قدیم نیولیتھک مقام سے ایک 12,000 سال پرانا ٹی شکل ستون دریافت کیا ہے، جس پر انسانی چہرے کی نقش کاری کی گئی ہے۔
یہ دریافت علاقے میں پہلی بار سامنے آئی ہے اور ماہرین اسے قیمتی قومی خزانہ قرار دے رہے ہیں۔ اس ستون پر گہرے آنکھیں، نمایاں ناک اور دیگر انسانی خصوصیات کندہ ہیں، جو ابتدائی انسانوں کے فن اور اظہار کی تاریخ میں ایک نیا باب کھولتی ہیں۔
اس سے پہلے یہاں صرف بازو یا علامتی نقوش دریافت ہوئے تھے، لیکن یہ پہلی بار ہے کہ پورے چہرے کی باقیات ملی ہے۔
تحقیق کی قیادت پروفیسر نجمِی کارول نے کی، جو استنبول یونیورسٹی کے ماہر آثار قدیمہ ہیں اور یہ کھدائی ترکی کی وزارتِ ثقافت و سیاحت کے تعاون سے جاری پتھریلے ٹیلے منصوبہ کے تحت ہو رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ دریافت نہ صرف قدیم فن کا ثبوت ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ انسانوں میں اپنی شناخت اور اظہار کی صلاحیتیں زراعت اور آبادکاری سے پہلے ہی موجود تھیں۔
کراہان ٹیپی کی یہ دریافت Göbekli Tepe جیسے دیگر تاریخی مقامات کے ساتھ، نیولیتھک دور کی ابتدائی انسانی تہذیب کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس تہذیب میں لوگ نہ صرف روزمرہ زندگی اور زراعت میں ماہر تھے بلکہ انہوں نے اپنے جذبات، عقائد اور سماجی رشتوں کو بھی فن و نقش و نگار کے ذریعے ظاہر کیا۔
