اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پہلی خاتون گورنر ڈاکٹر شمشاد اختر انتقال کرگئیں

پاکستان کی نامور ماہرِ معاشیات اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پہلی خاتون گورنر ڈاکٹر شمشاد اختر انتقال کر گئیں۔ ان کا انتقال حرکتِ قلب بند ہونے کے باعث ہوا۔
ڈاکٹر شمشاد اختر 2 جنوری 2006ء کو اسٹیٹ بینک کی 14ویں گورنر مقرر ہوئی تھیں۔ ان کی نمازِ جنازہ کل بعد نمازِ ظہر کراچی میں ادا کی جائے گی۔
شمشاد اختر کا تعلق حیدرآباد سے تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کراچی اور اسلام آباد میں حاصل کی۔ 1974ء میں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے اکنامکس اور قائداعظم یونیورسٹی سے ایم ایس سی اکنامکس کیا۔ بعد ازاں 1977ء میں یونیورسٹی آف سسیکس سے ڈویلپمنٹ اکنامکس میں ماسٹرز اور برطانیہ کے پیسلے کالج آف ٹیکنالوجی سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
شمشاد اختر کے انتقال پر ملک کی اعلیٰ قیادت نے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے
ہوئے کہا کہ مالیاتی نظم و نسق اور معیشت کے شعبے میں ان کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ڈاکٹر شمشاد اختر ایک قابل، دیانت دار اور عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرنے والی شخصیت تھیں۔
آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے پاکستان کے لیے معاشی میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے انہیں پاکستان کی معاشی تاریخ میں ایک باوقار اور اصول پسند آواز قرار دیا۔
