انٹرپول نے ذلفی بخاری کے خلاف تفتیش ختم کردی، ریڈ نوٹس بھی منسوخ

انٹرنیشنل کرمنل پولیس آرگنائزیشن (انٹرپول) نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ذلفی بخاری کے خلاف جاری تفتیش ختم کر دی اور ان کے خلاف جاری ریڈ نوٹس بھی منسوخ کر دیا ہے۔
انٹرپول نے یہ فیصلہ ذلفی بخاری کے وکلا کی درخواست اور پاکستانی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کیا۔ اس حوالے سے انٹرپول نے بخاری کے قانونی نمائندوں کو خط کے ذریعے آگاہ کیا۔
یاد رہے کہ پاکستان کی وزارت داخلہ نے 2023 میں انٹرپول سے ذلفی
بخاری کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست کی تھی، جس میں ان پر دہشت گردی اور
دیگر سنگین جرائم کے الزامات لگائے گئے تھے۔
تاہم انٹرپول کے جنرل سیکرٹریٹ نے حالیہ فیصلے میں واضح کیا کہ بخاری کے خلاف کوئی قابلِ عمل شواہد موجود نہیں ہیں، لہٰذا ان کا نام انٹرپول کے ریکارڈ سے مکمل طور پر خارج کر دیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ پاکستان کی حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا
رہا ہے کیونکہ اس سے پہلے انٹرپول نے پی ٹی آئی کے ایک اور رہنما، مونس الٰہی کے
خلاف بھی ریڈ نوٹس ختم کر دیا تھا۔ اس طرح بیرونِ ملک مقیم پی ٹی آئی رہنماؤں کو
واپس لانے کی حکومتی کوششیں ناکام ہو رہی ہیں۔
اب ذلفی بخاری کسی بھی ملک میں آزادانہ طور پر سفر کر سکتے ہیں
اور ان کے خلاف کوئی بین الاقوامی قانونی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔
