AIکے استعمال سے پیچیدہ جرائم اور فراڈ کی وارداتوں میں اضافہ

یورپی یونین کے ادارے کی رپورٹ میں ہوشربا انکشافات
برسلز: یورپول نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس آئندہ دہائی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی حفاظت کے لیے سنگین چیلنجز پیدا کر سکتی ہیں۔
یورپول یورپی یونین کا مرکزی ادارہ ہے جو ممالک کے درمیان جرائم اور دہشت گردی کے خلاف تعاون اور معلومات کے تبادلے پر کام کرتا اور اس نے حال ہی میں دو اہم رپورٹس جاری کی ہیں جن میں خودکار نظاموں کے بڑھتے ہوئے استعمال اور ممکنہ خطرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
ادارے نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اے آئی سے چلنے والے روبوٹ، ڈرونز اور خودکار نظام نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مددگار ہو سکتے ہیں بلکہ مجرموں کے لیے بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2035 تک یہ ٹیکنالوجیز روزمرہ زندگی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں پھیل جائیں گی، اور ممکنہ خطرات میں ڈرون کے ذریعے سمگلنگ، روبوٹک جاسوسی پر حملے اور خودکار مشینوں کا ہتھیار کے طور پر استعمال شامل ہیں۔
یورپول کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اے آئی کے ذریعے پیچیدہ جرائم، متعدد زبانوں میں فراڈ، شناختی چوری، اور جعلی ڈیجیٹل مواد کی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مجرمانہ گروہ اے آئی کا استعمال کرتے ہوئے اپنی کارروائیوں کو تیز اور زیادہ مؤثر بنا رہے ہیں، جس سے انہیں پکڑنا مشکل ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید ٹیکنالوجی اور تربیت میں سرمایہ کاری بڑھانی ہوگی تاکہ اے آئی سے چلنے والے جرائم کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔
یورپول کے حکام نے یورپی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قانونی فریم ورک کو اپ ڈیٹ کریں اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنائیں تاکہ اے آئی پر مبنی مجرمانہ سرگرمیوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کو کم کیا جا سکے۔ رپورٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ اے آئی معاشرے کے لیے اہم فوائد فراہم کرتی ہے، اس کے غلط استعمال سے جرائم کی دنیا بدل سکتی ہے۔
